ریڈیو پاکستان لاہور کے سابق سینئر پروڈیوسر پروفیسر افتخار رسول شیخ کے اعزاز میں عشائیہ

حیاتیات Aug 19, 2026 IDOPRESS

دبئی (طاہر منیر طاہر ) ریڈیو پاکستان کے سینئر پروڈیوسر، ممتاز براڈکاسٹر، ادیب اور دانشور پروفیسر افتخار رسول شیخ کے اعزاز میں دبئی کے ایک مقامی ہوٹل میں خصوصی عشائیے کا اہتمام کیا گیا، جس میں شعبۂ صحافت، نشریات، ادب اور پاکستانی کمیونٹی سے تعلق رکھنے والی نمایاں شخصیات نے شرکت کی۔


یہ تقریب ریڈیو پاکستان کے ماضی، حال اور مستقبل کے حوالے سے منعقد ہونے والے خصوصی ’’گرینڈ ڈائیلاگ‘‘ کے بعد منعقد ہوئی، جس میں پاکستان کی قومی نشریاتی تاریخ، ابلاغِ عامہ میں ریڈیو کے کردار، موجودہ دور میں اس کی افادیت اور تیزی سے تبدیل ہوتے ہوئے ڈیجیٹل میڈیا ایکوسسٹم میں ریڈیو کے مستقبل پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا گیا۔تقریب کا اہتمام علمی و ادبی شخصیت ملک محمد اسحاق نے کیا جس میں سعدیہ عباسی، نبراس سہیل، محمد سہیل انجم، ملک یاسر امتیاز اعوان، میاں غلام محی الدین، عامر سہیل انجم، خالد محمود گوندل، سردار جاوید یعقوب اور طاہر منیر طاہر نے شرکت کی-


اس موقع پر شرکائے تقریب نے اپنے اپنے خیالات کا اظہا ر کرتے ہوئے کہا کہ ریڈیو پاکستان محض ایک نشریاتی ادارہ نہیں بلکہ پاکستان کی قومی تاریخ، ثقافتی شناخت، ادبی ورثے اور اجتماعی یادداشت کا ایک اہم حصہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ قیامِ پاکستان کے تاریخی اعلان سے لے کر جنگوں، قومی بحرانوں، قدرتی آفات اور اہم قومی مواقع تک ریڈیو پاکستان نے عوام تک مستند معلومات پہنچانے اور قومی یکجہتی پیدا کرنے میں نمایاں کردار ادا کیا۔


شرکائے تقریب نے ریڈیو پاکستان کی تاریخی خدمات کا بھی ذکر کیا جس کے ذریعے ادب، ڈرامہ، صداکاری اور فنونِ لطیفہ کی متعدد ممتاز شخصیات کو قومی سطح پر پہچان ملی۔ ان کا کہنا تھا کہ ریڈیو پاکستان نے بانو قدسیہ، قاضی واجد سمیت متعدد ادیبوں، صداکاروں، فنکاروں اور تخلیقی شخصیات کے فنی سفر میں اہم پلیٹ فارم فراہم کیا اور پاکستان کے ادبی و ثقافتی سرمائے کو گھر گھر پہنچایا۔


تقریب کے شرکاء نے جدید دور میں ریڈیو کے کردار پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اب نشریات صرف روایتی ریڈیو سیٹ تک محدود نہیں رہیں بلکہ اسمارٹ فونز، سیٹلائٹ براڈکاسٹنگ، انٹرنیٹ ریڈیو، پوڈکاسٹنگ، لائیو اسٹریمنگ اور ڈیجیٹل آڈیو پلیٹ فارمز نے ریڈیو کے تصور کو مکمل طور پر بدل دیا ہے۔ ان کے مطابق ضرورت اس امر کی ہے کہ ریڈیو پاکستان اپنی تاریخی ساکھ کو جدید ٹیکنالوجی، ڈیجیٹل ڈسٹری بیوشن اور نوجوان نسل کی میڈیا عادات سے ہم آہنگ کرتے ہوئے نئے عہد میں مؤثر انداز سے آگے بڑھے۔


پروفیسر افتخار رسول شیخ نے ریڈیو پاکستان کے تاریخی، علمی، ادبی اور سماجی کردار پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ اس قومی ادارے نے کئی دہائیوں تک پاکستان میں معلومات، تعلیم، تفریح اور ثقافتی ابلاغ کا بنیادی فریضہ انجام دیا۔ انہوں نے کہا کہ جدید ذرائع ابلاغ کے باوجود ریڈیو کی اہمیت ختم نہیں ہوئی بلکہ ٹیکنالوجی کے ساتھ اس کی فارمیٹ اور ڈلیوری میکانزم تبدیل ہوئے ہیں۔ مؤثر ادارہ جاتی حکمتِ عملی، معیاری پروگرامنگ اور ڈیجیٹل انضمام کے ذریعے ریڈیو پاکستان آج بھی نئی نسل تک اپنی رسائی کو وسعت دے سکتا ہے۔


تقریب میں معروف صحافی، براڈکاسٹر، کالم نگار، مصنفین اور پاکستانی کمیونٹی کی مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والی شخصیات شریک ہوئیں۔ شرکاء نے پروفیسر افتخار رسول شیخ کی نشریاتی، علمی اور ادبی خدمات کو سراہا اور پاکستان میں معیاری صحافت، ادب اور ذمہ دار ابلاغ کے فروغ کے لیے ایسے مکالموں اور فکری نشستوں کو وقت کی اہم ضرورت قرار دیا۔


عشائیے کے دوران اظہارِ محبت و احترام کے طور پر میزبان ملک محمد اسحاق اور ملک یاسر امتیاز اعوان نے پروفیسر افتخار رسول شیخ کو خصوصی تحائف پیش کئے جبکہ مسز نبراس سہیل نے بھی اپنی کتاب پروفیسر افتخار رسول شیخ کو پیش کی-


تقریب کے اختتام پر شرکاء نے اس عزم کا اظہار کیا کہ پاکستان کے تاریخی قومی اداروں، خصوصاً ریڈیو پاکستان کے شاندار ورثے کو محفوظ رکھنے کے ساتھ ساتھ انہیں جدید ڈیجیٹل کمیونیکیشن، ملٹی پلیٹ فارم براڈکاسٹنگ اور آن ڈیمانڈ آڈیو ٹیکنالوجی سے ہم آہنگ کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔


عشائیہ خوشگوار اور پُروقار ماحول میں اختتام پذیر ہوا، جہاں شرکاء نے ریڈیو پاکستان کی خدمات، پاکستانی ادب، صحافت اور بیرونِ ملک پاکستانی کمیونٹی کے باہمی روابط کے فروغ کے لیے ایسی فکری و علمی تقریبات کے تسلسل کو سراہا۔

آل اسٹار ٹیکنالوجی آن لائن ٹیکنالوجی: ٹیک، AI، ایرو اسپیس، بایوٹیک، اور توانائی کی خبروں کے لیے آپ کا ذریعہ

آرین اسٹار ٹیکنالوجی، ایک ٹیکنالوجی نیوز پورٹل۔ ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت، بائیوٹیکنالوجی، ڈیٹا اور دیگر شعبوں میں تازہ ترین پیشرفت کی اطلاع دینے کے لیے وقف ہے۔
© ایرن اسٹار ٹیکنالوجی رازداری کی پالیسی ہم سے رابطہ کریں