
لاہور (ڈیلی پاکستان آن لائن) حضرت داتا گنج بخش علی ہجویریؒ کے 983ویں سالانہ عرس اور چہلم حضرت امام حسینؑ کے موقع پر ضلعی انتظامیہ اور ٹریفک پولیس نے سکیورٹی اور روانی کو برقرار رکھنے کے لیے جامع ٹریفک پلان تشکیل دے دیا ہے۔چیف ٹریفک آفیسر (سی ٹی او) لاہور سید عبدالرحیم شیرازی کی ہدایت پر جلوس اور عرس کے انتظامات کی لمحہ بہ لمحہ مانیٹرنگ کی جا رہی ہے۔
ٹریفک حکام کے مطابق سکیورٹی وجوہات اور زائرین کی سہولت کے پیش نظر کچہری چوک، بھاٹی چوک اور پیر مکی سے داتا دربار جانے والے راستے ہر قسم کی عام ٹریفک کے لیے بند کر دیے گئے ہیں۔ عرس اور جلوس کے باعث شہر کے 19 مختلف مقامات پر ٹریفک ڈائیورشنز قائم کی گئی ہیں، جن میں میلاد چوک، اکبری گیٹ، شاہ عالم چوک، موری گیٹ، ٹیکسالی چوک، آزادی فلائی اوور، کچہری چوک اور پیر مکی شامل ہیں۔
شہریوں اور زائرین کی سہولت کے لیے مخصوص پارکنگ اسٹینڈز بنائے گئے ہیں۔ اس کے علاوہ دودھ سپلائی کرنے والی تمام گاڑیوں، ریڑھوں اور رکشوں کو آزادی فلائی اوور اور پیرمکی سے سبیلوں تک جانے کی اجازت ہو گی۔ قصور، کاہنہ، برکی روڈ، بیدیاں روڈ اور جی ٹی روڈ سے آنے والی دودھ کی گاڑیاں براستہ رنگ روڈ اور آزادی فلائی اوور اپنی منزل تک پہنچ سکیں گی۔
آزادی چوک سے ریلوے اسٹیشن جبکہ نیازی شہید چوک سے بند روڈ اور سگیاں کی طرف بھجوائی جا رہی ہے۔ کچہری چوک سے تمام ٹریفک آؤٹ فال روڈ پر ڈائیورٹ کی گئی ہے۔ چوک ضلع کچہری، ڈی آئی جی آپریشنز آفس کارنر، جی سی یونیورسٹی گیٹ اور لوئر مال روڈ تا پیر مکی یو ٹرن تک کا حصہ ہر قسم کی ٹریفک کے لیے بند ہے۔ چوبرجی اور پی ایم جی چوک سے راوی روڈ جانے والے شہری براستہ سگیاں رنگ روڈ استعمال کر سکتے ہیں۔ انر سرکلر روڈ سے آنے والی ٹریفک موری گیٹ سے براستہ اردو بازار اور کچہری روڈ جا سکے گی، جبکہ چوک ٹیکسالی، موری گیٹ اور چوک آزادی سے کوئی ٹریفک لوئر مال روڈ پر داخل نہیں ہوگی۔
ایس ایس پی سٹی زون مقصود لون کی نگرانی میں ٹریفک کی روانی کو برقرار رکھنے کے لیے 5 ڈی ایس پیز، 111 ٹریفک انسپکٹرز اور 900 سے زائد وارڈنز فرائض سر انجام دے رہے ہیں۔ رانگ پارکنگ کے خاتمے کے لیے 15 فوک لفٹرز اور 4 بریک ڈاؤنز بھی تعینات کیے گئے ہیں۔سی ٹی او لاہور سید عبدالرحیم شیرازی نے بتایا کہ شہریوں کو لمحہ بہ لمحہ اپ ڈیٹس دینے کے لیے 'راستہ ایف ایم' اور 'راستہ ایپ' کے ذریعے مکمل آگاہی فراہم کی جا رہی ہے۔ کسی بھی ہنگامی صورتحال یا رہنمائی کے لیے شہری ہیلپ لائن 15 پر رابطہ کر سکتے ہیں۔
