
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی نے قومی اسمبلی میں سپیکر سردار ایاز صادق سے مکالمہ کرتے ہوئے کہاکہ کل آپ نے میری باتوں کو جواب دیا، آپ سپیکر ہیں آپ نے ہماری باتوں کا جواب نہیں دینا ہوتا، میں اخلاقیات کے دائرے میں آپ کی باتوں کا جواب دیتا ہوں۔
نجی ٹی وی چینل جیو نیوز کے مطابق اپوزیشن لیڈر قومی اسمبلی نے کہاکہ آپ نے کسی تقریر کا حوالہ دیا اور پتہ نہیں کیا کیا باتیں کیں ،میں نے چمن میں تقریر پشتو زبان میں کی،میجر عامر کی ڈیوٹی لگائیں وہ پشتو سمجھتا ہے،میں نے کہا یہاں نہ کوئی قانون ہے نہ عدالت ہے جو کرنا ہے خود کرنا ہے،میں نے کہا عدالتوں سے پیچھے ہٹو اور خود پنچایتوں کے ذریعے فیصلے کرو۔
محمود خان اچکزئی نے کہاکہ حکومت غریبوں کا کام کرے گی تو آپ کو سپورٹ کریں گے،آپ گولیاں ماریں گے جیلوں میں ڈالیں گے تو مخالفت کریں گے،اپوزیشن لیڈر نے کہاکہ آپ نے کہا تھا کہ آرمی چیف کی ٹانگین کانپ رہی تھیں،آپ نے کہا کہ آرمی چیف نے کہاکہ جاسوس کو چھوڑو ورنہ انڈیا حملہ کر دے گا، آپ کا تعلق مسلم لیگ ن اور پیپلزپارٹی سے مجھ سے پرانا نہیں ،آپ کی فوج سے محبت کب سے جاگی ہے۔
