
اسلام آباد (ویب ڈیسک)وفاقی حکومت نے فیڈرز کی بجائے ٹرانسفارمر کو ریموٹلی بند کرنے کی تیاری شروع کردی ہے اور قومی اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے وزیرتوانائی اویس لغاری نے 3500فیڈرز پر اکنامک لوڈشیڈنگ کا اعتراف کرتے ہوئے بتایاکہ ریموٹلی ٹرانسفارمر کی بندش سے ادائیگی کرنیوالے صار ف کو ہرحال میں بجلی ملے گی۔
اویس لغاری نے بتایاکہ ساڑھے تین ہزار فیڈرز پر اکنامک لوڈشیڈنگ ہورہی ہے، وہ اس لیے ہورہی ہے کہ اگر نہ کریں توساڑھے3سو ارب تک محدود کیاگیا نقصان8,9سو ارب روپے تک پہنچ جائے گا، اس کا پیسہ کون دے گا؟ کیا یہ صوبے پیسہ دیں گے، کیوں دیں جبکہ محکمہ وفاق کا ہے۔اب لوڈشیڈنگ کے دورا ن پورے کا پورا فیڈر ہی بند ہوتاہے، ا ن فیڈرز پر ایک لاکھ 80ہزار ٹرانسفارمر ہیں، ان کی حکومت نے یہ کیوں نہیں سوچا جو ہم نے سوچا؟ ان ٹرانسفارمرز میں سے کچھ ٹرانسفارمرایسے ہیں جو مکمل ادائیگی کرتے ہیں، ان کی بجلی کیوں بند کررہے ہوتے ہیں؟
انہوں نے سوال اٹھایاکہ پہلے حکومت یہ نظام بجلی بند کرنے کے لیے فیڈر سے ٹرانسفارمر پر کیوں نہیں لے کرگئی، اب ہم نے پروگرام بنایا اور وزیراعظم کا حکم ہے کہ اگلے سال جون سے پہلے ان سارے فیڈرز پراکنامک لوڈشیڈنگ نہ صرف بندہوگی بلکہ نقصان کرنے والے ٹرانسفارمرکو ریموٹلی بند کیاجائے گاتاکہ پیسے دینے والے صارف کو بجلی سے کوئی نہ روک سکے، یہ ہماری حکومت کا منصوبہ ہے ،50ارب کا منصوبہ ہے۔
اویس لغاری نے کہاکہ منصوبہ پر عمل درآمد کے بعد پھر اگر شاہدخان کی بستی والے بجلی کی ادائیگی نہیں کریں گے تو یہ اور میں ، چاہے الٹے بھی ہوجائیں، ہماری بستیوں میں بجلی نہیں آئے گی، لیکن جو ادائیگی کرے گا، اسے بجلی ہرحال میں ملے گی اور یہی وزیراعظم کا فیصلہ ہے۔
