
مصنف:شہزاد احمد حمید
قسط:550
کسی فرنٹ سیٹ پر بیٹھی ایک نازنین اٹھی اور مستانی چال چلتی میرے ساتھ والی سیٹ پر آن ٹپکی۔ ویسے ہی جیسے کسی ڈال پر کوئی بھولا بسرا پراندہ اتر آیا ہو۔شکل سے یہ گوری نہیں کسی عرب ملک کی حسینہ لگ رہی تھی۔ پاگل کر دینے والے خدو خال۔ لمبا قد، ہرنی جیسے آ نکھیں، ستواں ناک، شہد کی رنگت کا گداز جسم، سنہرے بال۔ جسم سے چپکی بغیر بازوں کے سفید ٹی شرٹ اور ٹانگوں کا نظارہ کراتی کالی tightsیہ شعلہ بدن ’بلقیس“ تھی۔ سعودی عرب کے شہر ریاض کی رہنے والی۔اس شباب کو شراب نے مست اور آنکھوں کو نشیلی کر دیا تھا۔ اگلے 4 گھنٹوں یہ شعلہ بدن ”ڈرنک“سے لطف لیتی رہی اور میں اس سے۔ وہ میرے ساتھ چپکی بیٹھی تھی کہنے لگی؛”میں پیشہ کی وکیل ہوں اور چھٹیوں پر کیلے فورنیا جا رہی ہوں۔“ میرا ہاتھ خود بخود ہی اس کے ہاتھ میں چلا گیا۔ نہ اس نے منع کیا اور نہ میں باز آیا۔ اگلے 4 گھنٹے یہ چھیڑ چھاڑ جاری رہی۔ نہ میں نے جہاز کی کھڑکی سے باہر دیکھا اور نہ اس کی آنکھوں کا بڑھتا سرور کم ہوا۔ فلائیٹ کا کیا پتہ چلنا تھا، یہ کب لینڈ کی۔ دونوں اکٹھے ہی جہاز سے باہر آئے۔سامان لینے کی جگہ پہنچے۔ میرا بیگ پہلے آ گیا۔۔ اس کے بیگ کے انتظار میں تھے۔ میں نے پوچھا؛”کہاں قیام ہے تمھارا۔“ کہنے لگی؛”میرا بہنوئی لینے آ ئے گا مجھے۔“ اس نے مجھے اپنا فون نمبر لکھ کر دیا جو شاید درست نہیں لکھا گیا تھا۔ میں ایئر پورٹ سے باہر آ یا۔ بابر سے میری ملاقات15 سال بعد ہو رہی تھی۔ہم ایک دوسرے سے لپٹ گئے۔بابر کو پیار سے میں ”بابا جی“ کہتا ہوں۔ اسے بلقیس بارے بتایا توکہنے لگا؛”جا اگر ملے تو لے آ۔میں تجھے ہوٹل میں ٹھہرا رہا ہوں۔“ میں واپس گیا مگر تب تک وہ ایئر پورٹ اور میری زندگی سے جا چکی تھی۔
بابر مجھے لئے ”سلی کون ویلی“ کو چل دیا۔راستے میں سکول اور ماڈل ٹاؤن کی یادیں باتوں کا روپ لئے ہمیں جوان کئے تھیں۔ یادوں کے دیپ جلے تھے پتہ ہی نہ چلا اور ہم ہوٹل پہنچ گئے۔ جہاں دسویں فلور پر میرا کمرہ تھا۔ بابا کہنے لگا؛”تو کچھ آرام کر لے شام کو ملتے ہیں۔“ یہ شاندار قیام گاہ تھی۔ سیون سٹار۔ایسے ہوٹل اپنے وطن میں نہیں ہیں۔ یہاں میں نے ایک بات نوٹ کی شام4 بجے ہوٹل کی وسیع پارکنگ گاڑیوں سے بھر جا تی تھی اور صبح 6 بجے تقریباً خالی ہو تی۔ گورے جلدی سوتے اور صبح جلدی جاگ کر
early to bed early to rise makes a man healthy wealthy and wise
کی جیتی جا گتی تصویر تھے۔ شام کا کھانا 7 بجے کے لگ بھگ کھا لیتے اور ویک اینڈ کے سوا رات9 بجے سے پہلے ہی سو جاتے ہیں۔اس کے برعکس ہم رات کو دیر تک جاگتے اور صبح دیر تک سوتے ہیں۔ کم ہی جانتے ہیں کہ سورج نکلنے کے بعد تک سونا نحوست ہے۔
گولڈن گیٹ برج اور لمبارڈ سٹریٹ؛
بابا اگلے روز صبح سویرے ہی آ گیا۔ ہم نے مل کر ناشتہ کیا۔ یہ اتوار کا دن تھا اور ہم ”گولڈن گیٹ بر ج“ دیکھنے نکل گئے۔ ’اورنج رنگ“ سے رنگا اسی(80) سال پرانا 2 میل لمبا سولڈ سٹیل سٹکچر کا بنا یہ پل ”سان فرانسسکو بے اور بحرالکاہل“ پر تعمیر کیا گیا ہے اوریہ عجوبہ پل سان فرانسسکو اورمیرین کاؤنٹی کو ملاتا ہے۔ روزانہ اس سے لاکھوں گاڑیاں گزرتی ہیں۔ سمندر میں تیرتے چھوٹے بڑے جہاز دلفریب نظارہ دیتے ہیں۔ہر وقت یہاں سیاحوں کی بھیڑ ہو تی ہے۔ پارکنگ ایر یا میں کار کھڑی کر کے پل پر آئے تو ٹھنڈی ہوا اور رنگ رنگ کے لوگوں کی بھیڑ نے ہمیں خوش آمدید کہا۔ہم مٹر گشت کرتے ایک سرے سے دوسرے سرے پر چلے آئے۔ یہاں کے نظاروں سے فارغ ہو ئے تو اگلی منزل ”لمبارڈڈ سٹریٹ“ lombard street))تھی۔
(جاری ہے)
نوٹ: یہ کتاب ”بک ہوم“ نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوظ ہیں)ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔
