
تحریر: وقار ملک
پاکستان اس وقت اپنی جدید تاریخ کے ایک اہم اور حساس ترین موڑ سے گزر رہا ہے — وہ دور جہاں عالمی سطح پر اس کے کردار کو ہر زاویے سے دیکھا، پرکھا اور نئے سرے سے جانچا جا رہا ہے۔ وزیرِاعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی مشترکہ قیادت میں ملک کی خارجہ اور دفاعی حکمتِ عملی کو اب ایک مربوط، منصوبہ بند اور تعمیری کردار کے طور پر پہچانا جا رہا ہے۔گزشتہ چند سالوں میں اندرونِ ملک اور بیرونِ ملک مبصرین نے ایک واضح تبدیلی نوٹ کی ہے: پاکستان اب صرف بقا کی جدوجہد سے آگے بڑھ کر خطے اور دنیا کے معاملات کو نئی سمت دینے کے لیے سرگرم ہے۔ سرکاری ذرائع اور آزاد بین الاقوامی رپورٹس کے مطابق پاکستان مسلسل کوشاں ہے کہ وہ مذاکرات کو فروغ دے، کشیدگی کم کرے اور جنوبی ایشیا، مشرقِ وسطیٰ اور اس سے آگے کے علاقوں میں تعاون کی راہیں کھولے یہ کوششیں غیر محسوس نہیں رہی ہیں۔ یورپ کے مشہور میڈیا اداروں اور تجزیہ نگاروں — جن میں آسٹریا کا سرکاری نشریاتی ادارہ اورف (ORF)، پولینڈ کا معروف روزنامہ ٹری بونا (Trybuna) اور اٹلی کا معتبر نیوز پورٹل ال پوسٹ (Il Post) فرانس جرمن شامل ہیں — نے پاکستان کو ایک ایسے ملک کے طور پر اجاگر کیا ہے جو مختلف فریقوں کے درمیان رابطے کا ذریعہ بن رہا ہے۔ ایسے دور میں جب عالمی سطح پر اختلافات گہرے ہوتے جا رہے ہیں، پاکستان کی قیادت نے تنہائی کے بجائے رابطوں اور مکالمے کا راستہ منتخب کیا ہے۔
.
نوٹ: یہ مصنف کا ذاتی نقطہ نظر ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں ۔
۔
اگرآپ بھی ڈیلی پاکستان کیلئے لکھنا چاہتے ہیں تو اپنی تحاریر ای میل ایڈریس ’[email protected]‘ یا واٹس ایپ "03009194327" پر بھیج دیں۔
