
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن)قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی قومی غذائی تحفظ و تحقیق کا اجلاس چیئرمین سید طارق حسین کی زیر صدارت ہوا جس میں مصنوعی آم کے ذائقے والے مشروبات کے حفاظتی معیارات، آم کی پیداواری چیلنجز اور برآمدی حکمت عملی کا جائزہ لیا گیا۔ ملتان مینگو گروورز ایسوسی ایشن کے نمائندوں نے بتایا مصنوعی مٹھاس نے قدرتی آم کے گودے کی مصنوعات کی مانگ بری طرح متاثر کی جس نے مقامی زرعی صنعت کو متاثر کیا۔ کمیٹی نے نوٹ کیا کہ حالیہ برسوں میں آم کی قومی پیداوار تقریباً 2.2 ملین ٹن سے کم ہو کر 1.8 ملین ٹن رہ گئی جس سے زرعی پیداوار اور مارکیٹ کے استحکام کے حوالے سے خدشات پیدا ہوئے ہیں۔
