
لندن (ویب ڈیسک) آبنائے ہرمز سے بارودی سرنگیں ہٹانا بحری آمد و رفت کو جنگ سے پہلے کی سطح پر لانے کے لیے پہلا ضروری قدم ہے، یہ بات بین الاقوامی میری ٹائم آرگنائزیشن کے سیکریٹری جنرل نے’’ بی بی سی‘‘ کو بتائی۔
اقوام متحدہ کے اس ادارے کے سربراہ ارسینیو ڈومینگز نے کہا کہ ’’جب یہ کام ہو جائے گا تو ہم ان جہازوں اور ملاحوں کو نکالنے پر کام شروع کریں گے جو تقریباً چار ماہ سے وہاں موجود ہیں،روزانہ 130 جہازوں کی جنگ سے پہلے والی سطح تک بحری آمد و رفت بحال کرنے کے لیے اس کے بعد بھی مزید اقدامات کی ضرورت ہوگی تاکہ یہ اہم آبی راستہ محفوظ بنایا جا سکے۔
اس وقت خلیج میں 500 سے زیادہ جہاز پھنسے ہوئے ہیں جن میں ہزاروں ملاح سوار ہیں۔ڈومینگز نے کہا، ’’ہم خطے کے ممالک، خاص طور پر عمان اور ایران کے ساتھ، اور ساحلی ریاستوں کے ساتھ مل کر کام کر رہے ہیں تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ کوئی خطرہ باقی نہ ہو۔‘‘
انھوں نے یہ تشویش بھی ظاہر کی کہ آبنائے ہرمز سے نکلنے کی جلدی میں جہازوں کے آپس میں ٹکرانے کا خطرہ ہے، اور اس سے بچنے کے لیے ’’ایک منظم طریقۂ کار‘‘ کی ضرورت ہے۔
