زندگی اچھی ڈگر پر چل رہی تھی، اچانک وقت تغیر پذیر ہونا شروع ہو گیا۔ جن پر تکیہ ہو، وہی پتے اگر ہوا دینے لگیں تو یہ اذیت قابلِ برداشت نہیں رہتی

جگہ Aug 25, 2026 IDOPRESS

مصنف:اللہ دتہ نجمی


قسط:37


ایک دن اُن کے دفتر گیا تو ضلع سرگودھا کے معروف زمیندار گھرانے سے تعلق رکھنے والی، ملک کی مشہور علمی و ادبی شخصیت وزیر آغا کو وہاں پر موجود پایا۔ تب میں نے کچھ دیر بیٹھ کر اٹھنے کی بجائے میز پر پڑے اُن کے غیر مطبوعہ انشائیوں کو پڑھنا شروع کر دیا۔ مجھے اُن کی ہلکی پھلکی تحریریں بہت اچھی لگیں۔ میری دلچسپی کو بھانپتے ہوئے انہوں نے ایک اپنی اور ایک وزیر آغا کی لکھی ہوئی انشائیوں پر مشتمل کتاب مطالعہ کرنے کی تلقین کے ساتھ مجھے تھما دی۔ میں نے دونوں کتابوں کو بغور پڑھا اور واپس کرتے ہوئے اُن پر اپنی سمجھ بوجھ کے حساب سے تبصرہ بھی داغ دیا۔


زندگی ایک اچھی ڈگر پر چل رہی تھی۔ راوی چین ہی چین لکھ رہا تھا کہ اچانک تھم تھم کے چلنے والا وقت تیزی سے تغیر پذیر ہونا شروع ہو گیا۔ خوشگوار اور شیریں زندگی میں تلخی اور کڑواہٹ کے آثار نمودار ہونا شروع ہو گئے۔ حالات معمول پر لانے کی کوشش میں مزید بگڑتے چلے گئے۔ میں اُن کے عطا کردہ زخموں سے چور ہو گیا جن کی معمولی سے معمولی چوٹ کو عبادت سمجھ کر سہلاتا رہا، جن کے اعمال کو اپنے ذمہ لے کر فخر محسوس کرتا۔ جن پر تکیہ ہو، وہی پتے اگر ہوا دینے لگیں تو یہ اذیت قابلِ برداشت نہیں رہتی۔ ہر شکستہ دل بھلا لگنے لگتا ہے اور ہر ظالم قابلِ نفرت۔ ایسی صورت حال میں ایسے اشعار اور اقوال پسند آنے لگتے ہیں جن میں اپنے دکھ، کرب، افسردگی اور پژمردگی کو تلاش کیا جا سکتا ہو۔ چنانچہ رات کے وقت سخت ترین ذہنی تناؤ اور اعصابی الجھاؤ کی حالت میں جب بے قراری، بے چینی، بیتابی اور بے کلی مسلسل آوازیں دیا کرتیں تو میں اپنے کلپنے کو پنجابی کے اشعار میں ڈھالنے کی کوشش کرتا۔ میری پہلی کاوش ملاحظہ فرمائیں:


دکھ غیراں نال تُسی پھرول دِتے


اتوں بول اولڑے وی بول دِتے


کوئی جوہری ہندا تے قدر کردا


لعل ہتھیں مٹی وچ رول دِتے


کسے جوگا نہ چھڈیا تُسی مینوں


دکھ وانگ زہر دے گھول دِتے


تہاڈی تکڑی نیاں دی وکھری سی


جنَے گناہ وی نیکی نال تول دِتے


کسے پاسے وی زور نہ چلیاجدوں


اساں نین سمندریں ڈول دِتے


نہیں معلوم کہ یہ ادا شدہ الفاظ شاعری کے کسی معیار پر پورا اترتے تھے بھی یا نہیں۔ اگر اترتے تھے تو کس حد تک۔ بہرکیف جو بھی ہو، میری دانست میں، اِن میں میرے حالِ شکستہ دل کی بھر پور عکاسی اور ترجمانی ہوئی تھی اور میں نے اپنی طرف سے اپنا پورا کرب اِن میں سمو دیا تھا۔ ریٹائرمنٹ کے بعد ایک دن انجم نیازی میرے پاس تشریف لائے تو میں نے شاعری شروع کرنے کے عزم کا اظہار کیا۔ سنتے ہی زور سے ہنس دئیے اور کہنے لگے کہ محبت، وکالت، شاعری اور شادی جوانی کے کھیل ہیں۔ پچھلی عمر میں اِن کے ناکام ہونے کے واضح اور روشن امکانات ہوتے ہیں۔۔۔۔ اُن کی اِس بات سے پھیلنے والی مایوسی کی دھند جب چھٹنا شروع ہوئی تو میں نے دو تین غزلیں اردو میں بھی لکھ ڈالیں۔ (جاری ہے)


نوٹ: یہ کتاب ”بک ہوم“ نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوظ ہیں)ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

آل اسٹار ٹیکنالوجی آن لائن ٹیکنالوجی: ٹیک، AI، ایرو اسپیس، بایوٹیک، اور توانائی کی خبروں کے لیے آپ کا ذریعہ

آرین اسٹار ٹیکنالوجی، ایک ٹیکنالوجی نیوز پورٹل۔ ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت، بائیوٹیکنالوجی، ڈیٹا اور دیگر شعبوں میں تازہ ترین پیشرفت کی اطلاع دینے کے لیے وقف ہے۔
© ایرن اسٹار ٹیکنالوجی رازداری کی پالیسی ہم سے رابطہ کریں