شاعری صرف الفاظ کا مجموعہ نہیں بلکہ  روحانی کیفیات اور زندگی کے تجربات کو الفاظ کا خوبصورت لباس پہنانے کا ذریعہ ہے، کنول ملک  

سافٹ ویئر Aug 24, 2026 IDOPRESS


دبئی (طاہر منیر طاہر) پاکستان کے شہر اسلام آباد سے تعلق رکھنے والی پاکستانی شاعرہ کنول ملک جو 2008ء سے متحدہ عرب امارات میں مقیم ہیں، پیشہ ورانہ طور پر HR Manager کے طور پر ایک کمپنی میں اپنے فرائض انجام دے رہی ہیں اور مختلف کاروباری سرگرمیوں سے بھی وابستہ ہیں۔ ادب، بالخصوص شاعری، ان کی شناخت ہے۔ کنول ملک نے کہاکہ ان کے لیے شاعری صرف الفاظ کا مجموعہ نہیں بلکہ احساسات، مشاہدات، جذبات، روحانی کیفیات اور زندگی کے تجربات کو الفاظ کا خوبصورت لباس پہنانے کا ذریعہ ہے۔ ان کا پیدائشی نام شبانہ ہے، جبکہ ادبی دنیا میں وہ کنول ملک کے نام سے معروف ہیں۔


کنول ملک کے ادبی سفر کا آغاز نعت گوئی سے ہوا۔ بچپن ہی سے ان کی طبیعت میں شاعرانہ مزاج، حساسیت، روحانیت اور گہرے احساسات موجود تھے۔ انہیں خاموشی، فطرت، تنہائی اور روحانی کیفیات ہمیشہ اپنی طرف متوجہ کرتی رہیں۔انہیں روحانی شاعری سے خاص لگاؤ رہا ہے، کیونکہ ان کی فطرت میں بچپن ہی سے روحانیت اور شاعرانہ پن زیادہ تھا۔ابتدا میں انہوں نے نعتیں لکھیں اور پڑھیں۔ نعت گوئی ان کے لئے صرف شاعری نہیں بلکہ محبت، عقیدت اور روحانی وابستگی کا اظہار تھی۔


بعد ازاں انہوں نے ملی نغموں کی طرف بھی توجہ دی۔ پاکستان سے محبت، قومی جذبات اور اپنی مقامی کرکٹ ٹیم کے حوالے سے نظمیں اور اشعار لکھے،ملی نغموں، ٹیبلوز اور ڈراموں میں بھی حصہ لیا۔


کنول ملک کی Civics کی استادہ ڈاکٹر امینہ خان صاحبہ، جو اردو کی ڈگری بھی رکھتی تھیں، ان کی آواز اور نعت پڑھنے کے انداز سے بہت متاثر تھیں۔ وہ اکثر ان کی حوصلہ افزائی کرتی تھیں کہ میں نعت لکھنے کی طرف بھی توجہ دوں۔میری سکول وائس پرنسپل مسز زیدی صاحبہ کو ان کی نعتیں بے حد پسند تھیں۔ سکول اسمبلی کا آغاز ان کی نعت کے بغیر مکمل نہیں ہوتا تھا۔ تقریباً روزانہ اسمبلی میں نعت پڑھنا میری ذمہ داری ہوتی تھی، کیونکہ مسز زیدی صاحبہ ان کی آواز اور نعت کے انداز کو بہت پسند کرتی تھیں۔اپنے بارے مزید بتاتے ھوئے کنول ملک از خود لکھتی ہیں کہ مسز زیدی کی حوصلہ افزائی نے مجھے نعت لکھنے کی طرف راغب کیا۔ جب میں نے ایک مقابلے کے لیے نعت لکھی تو مجھے احساس ہوا کہ میرے اندر نعت لکھنے کی صلاحیت بھی موجود ہے۔میری نعت کو بہت سراہا گیا، جس کے چند اشعار یہ تھے:


“اے شاہِ مدینے والے، میرے سوئے بھاگ جگا


میں پیاسی تیری دید کی، مجھے اور نہ کوئی چاہ”


بعد ازاں میں نے آل پاکستان سطح کے سرکاری مقابلوں میں بھی حصہ لیا اور متعدد انعامات حاصل کیے۔اسکول کے زمانے میں میری نعتوں، ملی نغموں، ٹیبلوز اور ڈراموں میں شرکت کی وجہ سے مجھے ایک خاص پہچان حاصل ہوئی اور مجھے “لٹل اسٹار” کے نام سے جانا جانے لگا۔


کالج کے زمانے میں بھی میری شاعری کو بہت پسند کیا جاتا تھا۔ بعد ازاں جب میں انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی اسلام آباد میں شریعت لاء اور ایل ایل بی کی تعلیم حاصل کرنے گئی تو وہاں بھی میری شاعری کے بہت سے مداح موجود تھے۔ یونیورسٹی کی لائیبریری اور کیفےٹیریا میں لوگ مجھے ایک شاعرہ کے طور پر جانتے تھے اور روک روک کر میری نئی تخلیقات سننے کی فرمائش کرتے تھے۔ شاعری کے علاوہ بھی میں نے ادب کی مختلف اصناف میں کام کیا ہے۔ میں نے متعدد ناول، افسانے اور بچوں کے لیے کہانیاں بھی لکھی ہیں، جو مختلف رسائل اور کتابوں میں شائع ہو چکی ہیں، جبکہ میری کچھ تحریریں آن لائن بھی دستیاب ہیں۔


میری پہلی کتاب اس وقت شائع ہوئی جب میں ابھی سکول کی طالبہ تھی۔ میری پہلی کتاب “تمہیں تم سے ہی مانگا ہے” کے عنوان سے 2008ء میں شائع ہوئی۔ اگرچہ یہ میری ابتدائی عمر کی تخلیقات پر مشتمل تھی اور فنی اعتبار سے ایک نوآموز شاعرہ کے سفر کی عکاسی کرتی تھی، لیکن قارئین نے اسے بے حد محبت دی۔میری دوسری کتاب “چاند چہرا، گلاب لب اس کے” کے عنوان سے 2010ء میں شائع ہوئی، جو شاعری کی کتاب ہے۔میری تیسری کتاب “تمہارے نام” کے عنوان سے 2016ء میں شائع ہوئی، جو بھی شاعری کا مجموعہ ہے۔اس کے علاوہ میرا ناول “تم کو خبر ہونے تک — ادھوری محبت کی پوری کہانی” اور شاہا آن لائن موجود ہے۔ شادی کے بعدجب اللہ تعالیٰ نے مجھے بیٹی کی نعمت سے نوازا تو میری ذمہ داریاں مزید بڑھ گئیں، اس لیے مشاعروں میں شرکت کا سلسلہ کچھ کم ہو گیا۔تاہم ادب اور شاعری سے میرا تعلق کبھی ختم نہیں ہوا۔


میں نے بہت سے عظیم شعراء کو پڑھا ہے، جن میں احمد فراز، پروین شاکر، جون ایلیا، فیض احمد فیض ، ساحر لدھیانوی ، ساغر صدیقی ، محسن نقوی، بابا بلے شاہ اور امجد اسلام امجد شامل ہیں۔ ان سب کی شاعری نے کسی نہ کسی انداز میں میری سوچ اور اظہار کو متاثر کیا، لیکن میں ہمیشہ اپنی الگ شناخت برقرار رکھنے کی کوشش کرتی ہوں۔


میری شاعری میں محبت، روحانیت، انسانی جذبات، عورت کے موضوعات، رشتوں کی خوبصورتی، جدائی، وفا، امید اور زندگی کے مختلف رنگ نمایاں ہیں۔


مجھے روحانی شاعری خاص طور پر پسند ہے، کیونکہ میرے مزاج میں بچپن ہی سے روحانیت کا عنصر زیادہ رہا ہے۔ میرے لیے شاعری دل کی آواز ہے، جو کبھی دعا بن کر، کبھی احساس بن کر اور کبھی لفظوں کی صورت میں سامنے آتی ہے۔


شاعری دلوں کو جوڑنے کی طاقت رکھتی ہے۔ یہ نفرت کے اندھیروں میں امید کا چراغ جلا سکتی ہے، خاموش انسان کو آواز دے سکتی ہے اور ٹوٹے ہوئے دل کو حوصلہ بھی۔


جی ہاں، میری شاعری کو بہت سے لوگوں نے محبت دی ہے۔ میرے کئی مداح میری شاعری کو AI کے ذریعے گانے کی شکل دے کر مجھے بھیجتے رہتے ہیں۔


اس کے علاوہ کچھ نعت خواں حضرات نے میری نعتیں بھی پڑھیں، اور کچھ لوگوں نے میری غزلیں بھی گائیں۔میری کچھ شاعری اور ادبی کام آن لائن بھی موجود ہیں۔


مجھے سادگی اور گہرائی والے رنگ پسند ہیں۔ میرے پسندیدہ رنگ کالا، لال، سفید، کاسنی اور نیلا ہیں۔ ان رنگوں میں مجھے ایک خاص خوبصورتی، وقار اور سکون محسوس ہوتا ہے۔


زندگی میں بہت سے خوبصورت لمحات آئے، لیکن سب سے یادگار لمحہ وہ تھا جب اللہ تعالیٰ نے مجھے بیٹی کی نعمت سے نوازا۔ ماں بننے کا احساس میری زندگی کا سب سے خوبصورت اور مکمل تجربہ ہے۔


اپنی زبان، اپنی تہذیب اور اپنے ادب سے محبت کیجیے۔ محبت بانٹیں، امید کو زندہ رکھیے اور کتابوں سے رشتہ کبھی مت توڑیے۔ اگر میری شاعری آپ کے دل کو چھو جائے تو یہی میری سب سے بڑی کامیابی ہے۔ جب میں نے اپنی کتابوں کی اشاعت کے لیے رومیل ہاؤس آف پبلیکیشنز کے ارشد ملک صاحب سے رابطہ کیا تو انہوں نے میری شاعری کو بہت سراہا۔انہوں نے مجھ سے پوچھا کہ آپ اتنی کم عمری میں اتنے گہرے جذبات اور وزن کے ساتھ کیسے لکھتی ہیں؟ کیا آپ کے گھر میں کوئی شاعر ہے؟میں نے انہیں بتایا کہ میرے گھر میں کوئی باقاعدہ شاعر نہیں تھا۔ البتہ میں نے اپنی بہن


مونا ملک کو لکھتے ہوئے دیکھا تھا، جبکہ میرے والد صاحب کو اشعار پڑھنے کا شوق تھا، لیکن وہ خود شاعری نہیں کرتے تھے۔ارشد ملک صاحب کی حوصلہ افزائی نے میرے اندر اعتماد پیدا کیا اور مجھے یقین ہوا کہ مجھے اپنی شاعری کو کتابی شکل دینی چاہیے۔


بعد ازاں ڈاکٹر ابرار عمر صاحب، جو ایف ایم 100 پر غزل ٹائم پروگرام کرتے تھے، اور آر جے سلمان قیصر صاحب نے بھی میری شاعری کو بہت سراہا۔ ایف ایم ۱۰۱ کے ناصر خان اور ایف ایم 105.4 دبئی کے سید ارشد کی پذیرائی نے مجھے مزید اعتماد دیا-


میری پہلی کتاب میرے لیے ایک بہت جذباتی تجربہ تھا۔ جب یہ کتاب مارکیٹ میں آئی اور راولپنڈی اور اسلام آباد کے بک شیلوز پر پہنچی تو میرے سامنے بہت سے لوگوں نے محبت اور شوق سے میری کتاب خریدی۔ مجھے قارئین کی طرف سے بے شمار پیغامات، خطوط اور ای میلز موصول ہوئیں، جنہوں نے میرے حوصلے کو مزید بڑھایا۔


جب میں نے دبئی میں اپنی دوسری کتاب شائع کروائی تو میرے مداحوں کا حلقہ مزید وسیع ہو گیا۔ دبئی میں بھی لوگ میری کتابیں آٹوگراف کے ساتھ خریدنے کے خواہش مند ہوتے تھے، جو میرے لیے بہت خوشی اور حوصلہ افزائی کا باعث تھا۔


ایک تقریب 16 جنوری 2016ء کو منعقد ہوئی، جس میں تقریباً 150 سے 200 افراد نے شرکت کی۔ دبئی، شارجہ، ابوظہبی، فجیرہ، عمان اور پاکستان سمیت مختلف مقامات سے مہمان شریک ہوئے۔ بزرگ، بچے اور نوجوان سب اس تقریب کا حصہ تھے، جس نے اسے میرے لیے ایک یادگار ادبی موقع بنا دیا۔


دبئی میں میرا پہلا مشاعرہ دسمبر 2009ء میں ابراہیمی پیلس ریسٹورنٹ، بر دبئی میں منعقد ہونے والی ایک ادبی تقریب “بیادِ اظہار حیدر” میں ہوا۔ یہ پروگرام اظہار حیدر کی یاد میں صبیحہ صبا آپا اور صغیر احمد جعفری صاحب نے منعقد کیا تھا۔انہوں نے مجھے اس پروگرام میں مدعو کیا۔ صبیحہ صبا آپا کی فرمائش پر میں نے اپنی پہلی کتاب سے اپنی غزل پیش کی:


اب ہمارے درمیان یہ فاصلے ہیں اور بس


ایک ہم ہیں، خاک ہیں، یہ راستے ہیں اور بس


اس غزل کو بہت پسند کیا گیا اور یہی میرے دبئی میں مشاعروں کے باقاعدہ سفر کا آغاز بنا۔


اس کے بعد 2009ء سے مجھے پاکستان ایسوسی ایشن دبئی کے مختلف پروگراموں میں مسلسل مدعو کیا جاتا رہا۔ میری شاعری کے مداحوں کی تعداد میں بھی اضافہ ہوتا گیا اور اسی ادبی پذیرائی نے مجھے اپنی دوسری کتاب شائع کرنے کی طرف مزید راغب کیا۔


دبئی میڈیا اینڈ ڈیزائن میں جاب کے دوران میری دوسری کتاب “چاند چہرا، گلاب لب اس کے” شائع ہوئی۔2009ء کے بعد مجھے پاکستان ایسوسی ایشن دبئی کے مختلف پروگراموں میں مسلسل مدعو کیا جاتا رہا۔ طارق رحمان صاحب اور طاہر زیدی صاحب بھی مجھے مختلف پروگراموں میں مدعو کرتے رہے۔سامعین اور قارئین کی محبت اور میری شاعری کے مداحوں کی بڑھتی ہوئی تعداد میرے لیے ہمیشہ حوصلہ افزائی کا باعث بنی۔


دسمبر 2009ء کے “بیادِ اظہار حیدر” سے شروع ہونے والا میرا مشاعروں کا سفر کئی برسوں تک جاری رہا۔ مختلف ادبی تقریبات میں شرکت کا موقع ملا اور سامعین کی محبت اور پذیرائی ہمیشہ میرے لیے حوصلہ افزائی کا باعث بنی۔

آل اسٹار ٹیکنالوجی آن لائن ٹیکنالوجی: ٹیک، AI، ایرو اسپیس، بایوٹیک، اور توانائی کی خبروں کے لیے آپ کا ذریعہ

آرین اسٹار ٹیکنالوجی، ایک ٹیکنالوجی نیوز پورٹل۔ ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت، بائیوٹیکنالوجی، ڈیٹا اور دیگر شعبوں میں تازہ ترین پیشرفت کی اطلاع دینے کے لیے وقف ہے۔
© ایرن اسٹار ٹیکنالوجی رازداری کی پالیسی ہم سے رابطہ کریں