
واشنگٹن (ویب ڈیسک)واشنگٹن میں ایک سینیئر امریکی اہلکار نے بتایا ہے کہ اس معاہدے میں لبنان شامل نہیں ہے، لیکن اسرائیل اور لبنان کے درمیان براہ راست بات چیت جاری ہے، یہ بات انہوں نے بی بی سی سے گفتگو میں کہی۔
اہلکار نے بتایا کہ ’اگر ایران حزب اللہ کو کنٹرول نہیں کر سکتا اور وہ اسرائیلی ٹھکانوں یا شہروں پر حملہ کرتے ہیں، تو اسرائیل کو اپنا دفاع کرنے اور جواب دینے کا حق حاصل ہوگا۔‘
اس عہدیدار نے مزید کہا کہ ’ایران اور اس کے اتحادی، امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے ساتھ، دشمنی ختم کرنے اور ایک حتمی امن معاہدہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں جس میں ’امید ہے کہ ان پراکسی گروپوں میں سے بہت سے شامل ہوں گے‘۔
