گاڑی سے باہر نکل کر گھنٹی بجائی، کافی دیر انتظار کے بعد بھی کوئی آہٹ سنائی نہ دی، اچانک چھت سے تین چار مسلح لوگوں نے ہینڈز اپ کرنے کا حکم دیا

چپ ٹیک Sep 28, 2026 IDOPRESS

مصنف:اللہ دتہ نجمی


قسط:71


رات کے تقریباً 2 بجے یخ سردی میں اُن کی گاڑی چوہدری صاحب کی رہائش گاہ کے گیٹ کے سامنے کھڑی تھی۔ اِس طرح کے چوہدریوں کے گھر نہیں بلکہ حویلیاں ہوا کرتی ہیں جن کے در و دیوار چوہدریوں کی آن بان، شان، رعب و دبدبے اور ہیبت سے بھی زیادہ اونچے اور باوقار لگتے ہیں۔۔۔۔۔ گاڑی سے باہر نکل کر گھنٹی بجائی مگر کافی دیر انتظار کرنے کے بعد بھی اندر سے کوئی بندہ بشر تو کجا آواز یا آہٹ بھی سنائی نہ دی۔ گھنٹی بجانے کا عمل بار بار دہرانے پر اچانک چھت سے تین چار لوگوں نے اسلحہ لہراتے ہوئے گرجدار آواز میں ہینڈز اپ کرنے کا حکم دیا۔ تعمیل ہوتے ہی انہوں نے ہمیں اپنا مکمل تعارف کروانے اور رات کو بغیر پیشگی اطلاع دیئے اچانک آمد کی وجہ پوچھی۔


کیپٹن اظہر نے اپنا اور اپنے دوست کا تعارف کراتے ہوئے وجہء آمد بھی مختصراً بتا دی۔ گجرات کے اُس دوست کا حوالہ بھی دیا جس کے کہنے پر وہ چوہدری صاحب سے ملنے آئے تھے۔ تھوڑی دیر کے بعد حویلی کے مین گیٹ میں نصب سائیڈ والا چھوٹا دروازہ کھلا، مسلح افراد نے اُن کی جامع تلاشی لی، شناختی کارڈز چیک کئے، گاڑی کی بھی مکمل تلاشی لی، اِدھر اُدھر نظریں دوڑائیں اور اپنی مکمل تسلی کر لینے کے بعد اُنہیں انتظار کرنے کو کہا۔ چھت والے اسلحہ بردار بدستور چھت پر موجود تھے مگر اب نالیوں کا رخ ان کی طرف سے ہٹ چکا تھا۔ تھوڑی دیر کے بعد اُن کو اندر آنے کی دعوت دی گئی۔ ایک بہت بڑے اور سجے دھجے ڈرائینگ روم میں بٹھا دیا گیا۔ کچھ ہی دیر میں پُرتکلف چائے بھی میز پر سجا دی گئی اور اِس اثناء میں مطلوبہ چوہدری صاحب نمودار ہوئے، تپاک سے ملے اور آمد کی وجہ دریافت کی۔


کیپٹن اظہر نے بتایا کہ ان کے برطانیہ سے آئے ہوئے دوست کو آپ سے کوئی ضروری نوعیت کا کام ہے۔ چوہدری صاحب نے سوالیہ نظروں سے کیپٹن اظہر کے دوست کی طرف دیکھا۔ اُس نے کہا ”چوہدری صاحب! آپ میرے کام کو ماریں گولی۔۔۔۔۔ آپ کا جاہ و جلال، پروٹوکول،طرزِ زندگی اور سٹائل دیکھ کر میں از حد متاثر ہوا ہوں اور آپ کی طرز پر چوہدراہٹ کا تاج اپنے سر پر سجانا چاہتا ہوں۔ بتائیں اِس سلسلے میں آپ میری کیا مدد کر سکتے ہیں“؟؟ بدلی ہوئی صورتحال میں کیپٹن اظہر حیرت زدہ ہو کر کبھی چوہدری صاحب پر نظر ڈالتے اور کبھی اپنے رئیس دوست کو دیکھتے۔۔۔۔۔


چوہدری صاحب نے چائے کا گھونٹ پیتے اور زیرِ لب مسکراتے ہوئے انتہائی متانت سے جواب دیا”میرے حساب سے تو آپ یہ کام نہیں کر سکیں گے“۔ کیپٹن اظہر کے دوست نے کہا ”میرے پاس دولت اور وسائل کی کوئی کمی نہیں ہے۔ اللہ کا دیا ہوا بہت کچھ ہے۔ آپ فقط یہ بتا دیں کہ اِس کے لئے مجھے کیا کرنا ہوگا؟ مجھے پوری امید ہے کہ میں کر گزروں گا“۔ چوہدری صاحب نے جو جواب دیا وہ کیپٹن اظہر اور اُس کے دوست کے وہم و گُمان میں بھی نہیں تھا۔(جاری ہے)


نوٹ: یہ کتاب ”بک ہوم“ نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوظ ہیں)ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

آل اسٹار ٹیکنالوجی آن لائن ٹیکنالوجی: ٹیک، AI، ایرو اسپیس، بایوٹیک، اور توانائی کی خبروں کے لیے آپ کا ذریعہ

آرین اسٹار ٹیکنالوجی، ایک ٹیکنالوجی نیوز پورٹل۔ ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت، بائیوٹیکنالوجی، ڈیٹا اور دیگر شعبوں میں تازہ ترین پیشرفت کی اطلاع دینے کے لیے وقف ہے۔
© ایرن اسٹار ٹیکنالوجی رازداری کی پالیسی ہم سے رابطہ کریں