
مصنف:صادق حسین
قسط:96
ایم ایس: شازیہ اسی ہسپتال میں رات کے وقت نرس کا کام کرتی ہے۔
شازیہ، نرس کا سفیدلباس پہنے، ایک مریض کے منہ میں تھرما میٹر رکھ کر کلائی کی گھڑی دیکھ رہی ہے۔
شازیہ ایک مریض کو دوا پلا رہی ہے۔
شازیہ ایک مریض پر کمبل ڈال رہی ہے۔
ایم ایس: علالت کے دوران اُسے خون کی ضرورت پڑی تو……
ایک دیوار پر ایک کاغذ چسپاں ہے، جس پر لکھا ہے ”شازیہ کو خون کی ضرورت ہے“ خون کی پیشکش کرنے والے لڑکے اور لڑکیوں کی قطاریں لگی ہیں
CUT TO CUT
ایم ایس: ہم نے اس میٹنگ میں سفارش کی ہے کہ شازیہ کو سرٹیفکیٹ آف میرٹ دیا جائے۔
چیئرمین: یہ سن کر مجھے خوشی ہوئی ہے (کھڑے ہو کر) آپ سب کا شکریہ۔ میں یہاں حسن اتفاق سے آیا مگر اس اتفاق میں سچ مچ کتنا حسن ہے۔
سین 10
ہسپتال کے کمرے میں
شازیہ: سر! ڈاکٹر نے اجازت دے دی ہے کہ میں کل سے کالج جا سکتی ہوں۔
پروفیسر چشتی: یہ سن کر مجھے خوشی ہوئی ہے۔ (سیدھا کھڑا ہو کر رعب سے) ٹھیک وقت پر کالج پہنچنا ہو گا۔
شازیہ ایک ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ اثبات میں سر ہلاتی ہے۔
شازیہ: سر! میں آپ کی شکر گزار ہوں۔
پروفیسر چشتی: مجھے یہ روایتی باتیں پسند نہیں۔ میں تمہارا استاد ہوں۔ میں نے اپنا فرض ادا کیا ہے۔
شازیہ: سر! میں جانتی ہوں، آپ میری ماں کو گھر کے اخراجات کے لئے پیسے دیتے رہے ہیں۔ میں یہ ساری رقم ادا کر دوں گی۔
پروفیسر چشتی: شٹ اپ۔
شازیہ اپنے ہونٹوں پر ہاتھ رکھ کر مسکراتی اور آنکھیں نیچی کر لیتی ہے۔پروفیسر چشتی کمرے سے باہر نکلتا ہے۔ ایک باوقار انداز سے قدم قدم چلتا، برآمدے سے گذرتا ہے۔ ڈاکٹروں، نرسوں اور دوسرے افراد کے سلام کا جواب دیتا ہے۔
راستے میں، ایک بجلی کے کھمبے کے پاس کھڑے ہو کر آسمان کی طرف دیکھتا ہے۔ ایک گہرا سانس لیتا اور مسکراتا ہے۔ مسجد سے اذان بلند ہوتی ہے۔ پروفیسر چشتی کے قدم رُک جاتے ہیں۔ اللہ اکبر، اللہ اکبر۔ اذان کے ان پہلے چار لفظوں کے ساتھ
سین ۱۱
پروفیسر چشتی آئینے کے سامنے کھڑا نکٹائی کی گرہ درست کر رہا ہے۔ آئینے میں کلثوم کا چہرہ نظر آ رہا ہے۔
کلثوم: آج آپ اصلی وقت پر آ گئے ہیں۔
پروفیسر چشتی: وقت اصلی اور نقلی نہیں ہوتا۔(جاری ہے)
نوٹ: یہ کتاب ”بک ہوم“ نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوظ ہیں)ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔
