
مصنف: ع۔غ۔ جانباز
قسط:159
اب اُدھر جو لبا لب بڑے شہروں جیسے سڈنی کا دامن لبا لب بھرا تو پھر سوچوں کے دائرے پھیلے اور نئے سے نئے شہر آباد ہونے لگے۔ جیسے "Melbourne" تو یہ اسی طرح کی ایک نو آباد کاری ہے۔ گھر سے ”میلیبرن“ کا فاصلہ 30 میل اور گاڑی جو چلتی جائے تو سر پٹ تو 30 ہی منٹ لگیں۔ دیکھتے جائیں دائیں بھی بائیں بھی، جا بجا نئی آبادیاں آہستہ آہستہ دامن پھیلا رہی ہیں اور وکٹورین ٹائپ Slanting چھتوں والے گھروں سے آراستہ ہیں جو انگلینڈ کینیڈا اور امریکہ وغیرہ میں بنتے تھے۔ جہاں برف پڑتی ہے اور یہاں تو برف پڑنے کا امکان کہاں؟ خیال ہی ہے کہ بلڈر حضرات اُن ملکوں سے آئے اور ”مکھّی پہ مکھّی“ مار رہے ہیں۔ 20 منٹ یہ منظر دیکھتے جو آگے بڑھے تو اب دائیں بائیں 10 میل کا راستہ دائیں بھی اور بائیں بھی سمجھو ایک ساتھ جڑی ہوئی آبادیوں سے اَٹا پڑا ہے۔ اور آخر میلبرن شہر کی پُر شکوہ عمارات نے دل کے نہاں خانے جگمگا دئیے۔
دریا کے کنارے بنے ایک ”ریسٹ ایریا“ میں قیام کیا اور پھر آہستہ آہستہ ہی اس طرح دوسرے تشنہ لب لوگ آتے گئے اور قیام کرتے گئے اور تقریباً 200 افراد اکٹھے ہوچکے تھے۔ سامنے دریا میں بادبانی کشتیاں، سٹیمرز اور ہاتھ سے چپّو سے چلنے والی کشتیاں رواں دواں تھیں۔ دریا کے کنارے پر رنگ و نسل کے لوگ چہل قدمی کرتے گذرتے گئے۔ دریا کے اُس پار جو ایک بڑی بلڈنگ دعوت نظارّہ دے رہی تھی دکھائی دئی تو ایک بڑا سٹیڈیم ہی لگے۔
ایک بات آسٹریلیا کی منفرد ہے کہ جہاں بھی آپ جائیں گے۔ آپ کو وہاں نزدیک ”واش رومز“ ضرور مل جائیں گے۔ وہاں بھی چند قدم کے فاصلے پر واش روم موجود تھا اور ہم لوگوں نے کئی بار اُس سے استفادہ کیا۔
پھر جو بھُوک چمکی تو سب نے سامانِ خوردو نوش وہاں 2بڑے میزوں پر سجا دیا اور ایک دعوتِ طعام کا ڈھنڈورا پٹ گیا۔ سب نے حسب توفیق پیٹ پوجا کی۔ بچی کھچی چیزوں کو ”بِن“ کی نظر کر کے، میزوں کی صفائی کے بعد واپسی کا بگل بج گیا اور سبھی اپنی اپنی گاڑیوں پر سوار ہو کر اپنے اپنے آشیانوں کا رُخ کر گئے۔
Dianela Community Center میں افطاری
علاقے "Tarneit" کے گرد و نواح کی پاکستانی فیملیز نے ایک گرینڈ افطار کا پروگرام بنایا۔ 3 فیملیز نے سارا بوجھ اپنے ذمہ لیا اور اس کی تیاری میں جُت گئیں۔ کچھ گھروں پہ پکوان پک رہے ہیں۔ کچھ بازار سے خور و نوش کا سامان اکٹھا کر رہے ہیں۔ خور و نوش کے سامان کے علاوہ دوسرا دعوتی سامان بھی درکار ہوتا ہے اُس کا بندوبست کیا جا رہا ہے۔
بروز ہفتہ شام 4 بجے کی رونق بڑھنے لگی اور تینوں فیملیز اپنے سارے سازو سامان کے ساتھ آن پہنچیں۔ پہلے سب سے مرحلہ تھا کمیونٹی سنٹر کے سٹور سے میز کرسیاں نکال کر بڑے ہال میں لگانا۔ پھر اُن پر میز پوش ڈالنا اور پلیٹوں کا ترتیب سے رکھنا اور اُدھر لیڈیز سامان خور و نوش کو ترتیب دینے میں لگ گئیں اور سب سامان ہال میں 2جگہوں پر سجا دیا گیا تاکہ آدھے لوگ اُدھر اور آدھے دوسری طرف سے افطاری کا سامان لے سکیں۔ (جاری ہے)
نوٹ: یہ کتاب ”بک ہوم“ نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوظ ہیں)ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔
