
دبئی (طاہر منیر طاہر) بزم اقبال اور ورلڈ رائیٹر ز فورم دبئی کے صدر ، معروف شاعر اور سوشل ورکر امجد اقبال امجد نے کہا ہے کہ اٹھائیس 28 مئی 1998ء پاکستان کی تاریخ کا وہ دن تھا جب قوم نے دنیا کو یہ پیغام دیا کہ ہم اپنے دفاع پر کبھی سمجھوتہ نہیں کریں گے۔ اُس وقت ڈالر تقریباً چالیس روپے کا تھا، مہنگائی محدود تھی، صنعت کا پہیہ چل رہا تھا اور قوم کے اندر ایک امید موجود تھی۔ آج ہم ایٹمی طاقت تو ہیں، مگر ڈالر دو سو پچاسی روپے سے بھی اوپر جا چکا ہے، قرضوں کا بوجھ بڑھ رہا ہے، صنعتیں بند ہو رہی ہیں اور نوجوان روزگار کے لیے دربدر ہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا صرف ایٹمی طاقت کسی قوم کو مضبوط بنا سکتی ہے؟
دنیا کی تاریخ گواہ ہے کہ جنگیں صرف ہتھیاروں سے نہیں، معیشت سے جیتی جاتی ہیں۔ امریکہ، چین اور روس کی اصل طاقت ان کے میزائلوں سے زیادہ ان کی معاشی بنیادیں ہیں۔ اگر خزانہ خالی ہو، صنعت تباہ ہو، برآمدات کمزور ہوں اور قوم مہنگائی کے بوجھ تلے دبی ہو تو ایٹمی پروگرام بھی دباؤ سے محفوظ نہیں رہ سکتا۔ بڑی طاقتیں ہمیشہ کمزور معیشتوں کو اپنے شکنجے میں لیتی ہیں۔ قرض، آئی ایم ایف، پابندیاں اور سفارتی دباؤ وہ ہتھیار ہیں جو توپوں اور میزائلوں سے زیادہ خطرناک ثابت ہوتے ہیں۔
آج اگر ہم واقعی اپنے ایٹمی پروگرام کو محفوظ بنانا چاہتے ہیں تو اس کا راستہ صرف میزائلوں کی تعداد بڑھانا نہیں بلکہ معیشت کو مستحکم کرنا ہے۔ زرعی انقلاب، صنعتی ترقی، برآمدات میں اضافہ، ٹیکس نظام کی اصلاح، تعلیم اور ٹیکنالوجی میں سرمایہ کاری — یہی وہ عوامل ہیں جو کسی قوم کو ناقابلِ شکست بناتے ہیں۔ ایک مضبوط معیشت ہی ایٹمی پروگرام کی اصل محافظ ہوتی ہے۔
ہمارے ہمسایہ ملک کے پنجاب نے ترقی کے کئی ریکارڈ قائم کر دیے ہیں۔ وہاں عوام کو چھ سو یونٹ تک مفت بجلی، مفت طبی سہولیات اور فلاحی منصوبے دیے جا رہے ہیں تاکہ عام آدمی کی زندگی آسان ہو سکے۔ دوسری طرف ہمارے ہاں عوام مہنگی بجلی، بے روزگاری اور مہنگائی کے بوجھ تلے دبے ہوئے ہیں جبکہ حکمران طبقہ بارہ ارب روپے کے جہازوں میں دنیا کے دورے کر رہا ہے۔ قومیں صرف بڑے بڑے دعووں سے نہیں بلکہ عوامی فلاح، تعلیم، صحت اور معاشی انصاف سے ترقی کرتی ہیں۔
یہ وقت سیاست سے زیادہ ترجیحات درست کرنے کا ہے۔ اگر حکمرانوں اور اداروں نے اب بھی قوم کی بنیادی ضروریات کو نظرانداز کیا، اگر صنعت، زراعت، تعلیم اور صحت کو سنجیدگی سے نہ لیا گیا، تو تاریخ کے اوراق میں ہمارا نام صرف ایک ایسی قوم کے طور پر رہ جائے گا جس کے پاس ایٹمی طاقت تو تھی مگر عوام بھوک، قرض اور مایوسی کا شکار تھے۔
پاکستان کو اب جذباتی نعروں سے آگے بڑھ کر عملی معاشی جنگ لڑنا ہوگی۔ قوم کو یہ سمجھنا ہوگا کہ ایٹمی دھماکوں کی اصل کامیابی تب ہوگی جب پاکستانی روپیہ مضبوط ہوگا، نوجوان کو روزگار ملے گا، صنعت چلے گی اور عوام خوشحال ہوں گے۔ کیونکہ آخرکار دنیا میں وہی قوم باوقار رہتی ہے جس کے پاس دفاع کے ساتھ مضبوط معیشت بھی ہو ۔
