
کراچی(ڈیلی پاکستان آن لائن)سٹی کورٹ کراچی میں سانحہ گل پلازہ کیس کی سماعت کے دوران پراسیکیوشن نے پولیس کی جانب سے جمع کرایا گیا چالان ایک بار پھر واپس کر دیا۔
نجی ٹی وی چینل ایکسپریس نیوز کے مطابق ذرائع کا کہنا ہے کہ پراسیکیوشن نے پولیس کی تفتیش کو نامکمل اور ناقص قرار دیتے ہوئے متعدد سنگین خامیوں کی نشاندہی کی ہے۔
ذرائع کے مطابق ڈی آئی ساؤتھ کراچی نے صورتحال کا جائزہ لینے کے لیے اجلاس طلب کر لیا ہے۔ پراسیکیوشن کا مؤقف ہے کہ پہلے چالان میں جن خامیوں کی نشاندہی کی گئی تھی، پولیس نئی رپورٹ میں بھی انہیں دور کرنے میں ناکام رہی۔
ذرائع کے مطابق نامزد ملزم 11 سالہ حذیفہ سمیت چار گواہوں کے بیانات عدالت میں ریکارڈ ہو چکے ہیں، جبکہ حذیفہ نے عدالت میں ماچس کی تیلیوں سے کھیلنے کا اعتراف بھی کیا ہے۔
چالان کے مطابق تنویر پاستا یونین کے صدر، عمار اسماعیل نائب صدر، امین جنرل سیکریٹری، محمد رمضان جوائنٹ سیکریٹری جبکہ نعمت اللہ اس دکان کے مالک ہیں جہاں سے آگ لگنے کا واقعہ پیش آیا تھا۔
