
لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن)ڈی آئی جی آپریشنز لاہور فیصل کامران نے غیرملکی خواتین کے اغواکے پس پردہ حقائق بتا دیئے۔
بی بی سی اردو کے مطابق ڈی آئی جی آپریشنز فیصل کامران کے مطابق یہ سارا معاملہ کرپٹو کرنسی میں سرمایہ کاری کے وعدے سے شروع ہوا تھا۔
ان کے مطابق یہ معاملہ پاکستان کے باہر سے شروع ہوا جب یہ دونوں غیر ملکی خواتین مرکزی ملزم سے سنگاپور میں کاروبار کے سلسلے میں ملیں۔ وہاں ان دونوں پارٹیوں کے درمیان کرپٹو میں سرمایہ کاری کے لیے بات چیت ہوئی۔
’مرکزی ملزم اور اس کے دوست نے ملکر ڈالرز میں لڑکیوں کے ساتھ مل کر سرمایہ کاری کی اور ان کے درمیان یہ طے پایا کہ اس سرمایہ کاری سے آنے والا منافع آپس میں تقسیم ہوگا، جس کے بعد یہ لڑکے پاکستان آگئے۔‘
تاہم فیصل کامران کے مطابق ان خواتین نے ملزمان کو منافع کی رقم نہیں دی اور ان کے ’فون کالز اور مسیجز کا جواب دینا بند کر دیا۔‘
سینیئر پولیس افسر نے بتایا کہ یہ خواتین مبینہ طور پر مزید سرمایہ کاری کے حوالے سے بات چیت کرنے پاکستان آئی تھیں اور انھیں تین جولائی کو پاکستان سے واپس جانا تھا۔
انھوں نے دعویٰ کیا کہ ’دو تین دن یہ خواتین اور ملزمان مختلف شہروں میں گھوتے پھرتے رہے۔ جس میں لاہور، اسلام آباد اور مری بھی شامل ہیں۔ وہاں انھوں نے مختلف لوگوں سے ملاقاتیں کی کھانے وغیرہ کھائے۔‘
’ان خواتین کی واپسی تین جولائی کو تھی، اس لیے یہ لاہور واپس آگئیں۔ جیسے ہی یہ واپس لاہور پہنچیں تو ان میں سے ایک ملزم نے کہا ’میں تو اپنے پیسے واپس لیے بغیر ان لڑکیوں کو پاکستان سے نہیں جانے دوں گا۔‘
’جس کے بعد اس نے اپنے دوست کی مدد سے کرائے پر گھر لیا اور اس کے دوست نے دو غنڈے بلا کر لڑکیوں کو اغوا کروایا اور پھر ان کے باپ کو کال کرکے اغوا برائے تاوان کے لیے پیسے مانگے۔‘
ڈی آئی جی فیصل کامرن کہتے ہیں کہ ’بےشک یہ لین دین کا معاملہ ہو لیکن پیسوں کی واپسی کے لئے کسی کو اغوا تو نہیں کیا جاسکتا۔‘
