زمین سے اتنی بلندی پر چاند اور نیچے سمندر کا مدو جزر، اس منظر کو جتنی کوشش کر لوں الفاظ میں ڈھال نہیں سکتا، یہ خوشبوؤں اور نازنینوں والی دنیا تھی

سافٹ ویئر Jun 30, 2026 IDOPRESS

مصنف:شہزاد احمد حمید


قسط:572


یہ 7 بھر پور دن رہے۔ نعیم مجھے دوبئی کی ہر اُس جگہ لے گیا جہاں پچھلی بار نہ جا سکا تھا کہ میرا کوئی ساتھی(کمپنی)نہ تھی۔دنیا کی سب سے اونچی عمارت ”برج الخلیفہ“پہنچے۔ سمندر سے جاتا راستہ حیران کر دیتا ہے۔ اس کی اسویں (80)منزل پر چاند کی چاندنی میں پر تکلف ڈنر کیا۔ ڈنر میں سمندری مچھلی اور جھینگوں کی بے شمار اقسام قدرت کی بے پناہ نعمتوں کی یاد دلاتی تھیں۔زمین سے اتنی بلندی پر آسمان پر چمکتا چاند اور نیچے سمندر کا مدو جزر، میں اس منظر کو جتنی بھی کوشش کر لوں الفاظ میں ڈھال نہیں سکتا۔ یہ خوشبوؤں اور نازنینوں آنکھیں خیرہ کر دینے والی دنیا تھی۔اس ڈنر پر ہر وہ کھانے کی شے تھی جو دنیا کا کوئی بھی رئیس تصور کر سکتا تھا۔ ہر خاتون شعلہ بدن ہر مرد سوختہ پروانہ۔بہرحال مجھ جیسا نعیم کے ساتھ ہی دنیا کے اس مہنگے ترین ہوٹل میں کھا نا کھا سکتا اور یہاں کی چکا چوند کا لطف بھی۔


شدید گرمی کے دن تھے اور وہ بھی صحرا کی گرمی۔ میں نے نعیم سے پوچھا؛”اتنی گرمی میں سیاح یہاں امڈے امڈے آ تے ہیں کوئی تو وجہ ہو گی۔“فوری جواب نہ ملا البتہ میری تشنگی سمجھتے مجھے ”ہوٹل“ لے آیا۔ موٹر پارک کر کے ہوٹل میں داخل ہوئے ہی تھے کہ ایک ازبک پری گناہ کی بھر پور دعوت سجائے بولی؛”want me“۔ میں ہکا بکا رہ گیا۔ جواب دیا؛”no thanks.“ اس کی مسکراہٹ ذرا سنجیدگی میں بدلی، اس نے منہ بنایا اور چلی گئی۔ نعیم بولا”ایسا جواب ان خواتین کو شاید ہی کوئی مرد دیتا ہو۔یہ برا مان گئی ہے۔“ ہم ہوٹل کے بار روم میں چلے آئے۔ اف! کیا منظر تھا۔ ایک سے ایک بڑھ کر حسینہ مردوں کی بانہوں میں جھول اور گھوم رہی تھیں۔ چند اکیلی بیٹھی کسی کے انتظار میں تھیں۔ ہم چند منٹ یہاں رکے تو کئی حسینائیں ہمیں دعوت دے چکی تھیں۔ہم انہیں گھورتا چھوڑ کر باہر چلے آئے۔ نعیم بولا؛”سمجھ آ ئی دنیا بھر سے سیاح یہاں کیوں ا ٓتے ہیں؟ یہی دو بئی کی سب سے بڑیattraction ہے میرے دوست۔ پیسہ، شراب،شباب۔“بڑی داڈی سمجھ آ ئی تھی۔ بہر حال ڈیزرٹ سفاری، مختلف مالز کی ونڈو شاپنگ، غرض یہ 7 دن تھکا دینے والے تھے۔


عربی کی چربی؛


5 ہفتے کی امریکہ اور 2 ہفتے کی دوبئی یاتراکے بعد ہم پھر سے امارت کے جہاز پر سوار ہونے کے لئے بورڈنگ کاؤنٹر پر ایک نالائق عربی کی ہٹ دھرمی کی باعث بڑی پر یشانی سے دو چار ہوئے۔ بس یہ عربی بول کر ہمیں پریشان کر رہا تھا۔ انگریزی اور دنیا کی سب سے بڑی یعنی اشاروں کی زبان بھی وہ نہیں سمجھنا چاہ رہا تھا۔ پھڈا اوور ویٹ بیگز سے شروع ہوا جس کی ادائیگی میں امریکہ میں ہی کر آ یا تھا اور وہ رقم پاکستان تک کی تھی۔ وہ مجھ سے انہی بیگز کے دوبارہ سے پیسے مانگ رہا تھا اور میں اسے امریکہ میں بیگز کی ادا کی گئی رقم کی رسید دکھا کر سمجھا رہا تھا کہ مجھے اب ان بیگز کا مزیدکچھ ادا نہیں کر نا۔ وہ بضد تھا اور میں بھی اپنے مؤقف پر قائم رہا۔بورڈنگ کارڈ ہمیں ایشو ہو چکے تھے۔ فلائیٹ کی آ خری اناؤنسمنٹ ہوئی تو اُس عربی نے اپنے افسر کی مداخلت پر ہماری جان چھوڑی۔ جہاز میں سوار ہونے والے ہم آخری مسافر تھے۔ عرب کے اُس مسلمان سے غیر مسلم کالی ہزار درجے بہتر تھی جس نے مذہب، رنگ، نسل کا امتیاز رکھے بغیر میری راہنمائی کی تھی۔ایسے ہی نہیں اللہ نے انہیں اُن ساری نعمتوں سے دنیا میں ہی نواز دیا ہے جس کا ہم سے وعدہ اللہ نے اچھے کام کرنے اور اپنے بندوں کی مدد، خدمت اور پیار کے عوض جنت کا وعدہ کر رکھا ہے۔ ہمارے کرتوت دیکھ کر شاید اللہ ہمیں وہ بھی نہ دے۔ (جاری ہے)


نوٹ: یہ کتاب ”بک ہوم“ نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوظ ہیں)ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

آل اسٹار ٹیکنالوجی آن لائن ٹیکنالوجی: ٹیک، AI، ایرو اسپیس، بایوٹیک، اور توانائی کی خبروں کے لیے آپ کا ذریعہ

آرین اسٹار ٹیکنالوجی، ایک ٹیکنالوجی نیوز پورٹل۔ ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت، بائیوٹیکنالوجی، ڈیٹا اور دیگر شعبوں میں تازہ ترین پیشرفت کی اطلاع دینے کے لیے وقف ہے۔
© ایرن اسٹار ٹیکنالوجی رازداری کی پالیسی ہم سے رابطہ کریں