اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)سابق وزیر خارجہ حنا ربانی کھر نے انکشاف کیا ہے کہ بارہ سال پہلے امریکا کے نیشنل سکیورٹی ایڈوائزر نے ایک سوال

اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)سابق وزیر خارجہ حنا ربانی کھر نے انکشاف کیا ہے کہ بارہ سال پہلے امریکا کے نیشنل سکیورٹی ایڈوائزر نے ایک سوال ’’اگر کوئی بھی صدر ایران پر حملہ کرتا ہے تو کیا ہوگا‘‘کے جواب میں کہا تھا کہ ہم ایران کو نقصان تو پہنچا سکتے ہیں ختم نہیں کر سکتے۔
نجی ٹی وی چینل ہم نیوز کے پروگرام ’’فیصلہ آپ کا‘‘میں میزبان عاصمہ جہانگیر نے مہمان سابق وزیرخارجہ حناربانی کھر سے سوال کیا
کہ کیا یہ اب آبنائے ہرمز کی جنگ نہیں ہے؟کہ جو بھی جیتے گا یہ جنگ اس کے حق میں جائے گی،جیتنے کا مطلب ہے کہ جو بھی اس کو مینج کرنے کی پوزیشن میں ہوگا۔
سابق وزیر خارجہ نے کہاکہ آبنائے ہرمز کو ایران نے آخری جنگی حربے کے طور پر استعمال کیا،ان کاکہناتھا کہ جب آپ نے بین الاقوامی قوانین کے باوجود ایران پر حملہ کیا، جب آپ منصفانہ نہیں کھیل رہے تو دوسرے بھی یہ امید نہیں رکھنی چاہئےکہ وہ بین الاقوامی قوانین کی پابندی کرے،ان کاکہناتھا کہ سوال یہ بھی ہے کہ کیا آبنائے ہرمزایران اور عمان کی حدود میں نہیں آتا۔
حنا ربانی کھر، سابق وزیر خارجہ
بارہ سال پہلے امریکی نیشنل سیکیورٹی ایڈوائزر نے کہا تھا کہ اگر امریکا ایران سے جنگ کرتا ہے تو ہم ان کو نقصان ضرور پہنچا سکتے ہیں مٹا نہیں سکتے مگر اس کے جواب ایران خطے کو شدید ترین معاشی نقصان پہنچا سکتا ہے۔۔ آبنائے ہرمز ایران نے آخری جنگی حربے کے… pic.twitter.com/eaUmjxY0yG
— Asma Shirazi (@asmashirazi) April 13,2026
