
نئی دہلی(ڈیلی پاکستانن آن لائن)بھارتی قید میں موجود کشمیری رہنما یاسین ملک نے بھارتی عدالتوں پر عدم اعتماد کرتے ہوئے اپنا مقدمہ مزید لڑنے سے انکار کردیا۔
یاسین ملک نے سری نگر کی عدالت میں 25 صفحات پر مشتمل حلف نامہ جمع کرا دیا جس میں یاسین ملک کے 24 اگست کے تحریری بیانات کو شہادت کا حصہ قرار دیا گیا ہے۔
یاسین ملک نے حلف نامے میں کہا ہےکہ بھارتی حکومت مجھے 36 سال بعد ایک جھوٹے مقدمے میں ملوث کر کے پھانسی دینے کی سازش کرچکی ہے، بھارتی عدالتوں سے انصاف کی توقع نہیں، عدالت سزائے موت بھی عائد کرے تو کشمیر کے لیے قبول ہے، عدالتی سزا قبول کرنے کا مطلب عائد جرم قبول کرنا نہیں ہے۔
دوسری جانب سیاسی ماہرین کا اس معاملے پر کہنا ہے کہ یاسین ملک کا ٹرائل مودی حکومت کی ایک معتبر کشمیری آواز کو سیاسی دباؤ سے خاموش کرنے کی ناکام کوشش ہے، یاسین ملک سمیت تمام کشمیری حریت پسند طویل قید اور بھارتی ریاستی جبر کے باوجود ثابت قدم رہے۔
سیاسی ماہرین کے مطابق بھارت آواز کو خاموش کرسکتا ہے مگر کشمیری نظریہ حریت کو دبا نہیں سکتا، اقوام متحدہ کو سیاسی قیدیوں کی رہائی کے لیے اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔
