
اسلام آباد (ویب ڈیسک) وفاقی حکومت نے پاکستان کے تین بڑے بین الاقوامی ہوائی اڈوں کو اپنے نظرثانی شدہ پانچ سالہ نجکاری پروگرام میں شامل کر لیا ہے، اور روڈ میپ کے پہلے سال کے دوران ہی ان کی نجکاری مکمل کرنے کا منصوبہ بنایا گیا ہے تاہم سرکاری طور پر ڈیلی پاکستان کو اس پیش رفت کی ابتدائی طورپر تصدیق نہ ہوسکی۔
دستاویزات کےحوالے سے دی نیوزکے لیے رانا غلام قادر نے لکھاکہتازہ ترین نجکاری منصوبے کے تحت کراچی کے جناح انٹرنیشنل ایئرپورٹ، اسلام آباد انٹرنیشنل ایئرپورٹ اور لاہور کے علامہ اقبال انٹرنیشنل ایئرپورٹ کو نجی شعبے کی شمولیت کے لیے مختص سرکاری اثاثوں کی فہرست میں شامل کیا گیا ہے، جبکہ یہ تینوں ہوائی اڈے حکومت کے پچھلے نجکاری پروگرام کا حصہ نہیں تھے۔ وفاقی حکومت کی پانچ سالہ نجکاری حکمت عملی کے تحت تیار کردہ اس نظرثانی شدہ روڈ میپ کے مطابق 25 سرکاری اداروں (ایس او ایز) کی نجکاری یا تنظیم نو تین مراحل میں کی جائے گی۔ اس منصوبے کے تحت اگلے ایک سال کے دوران پہلے مرحلے میں 11 اداروں کو شامل کیا جائے گا، دوسرے مرحلے میں ایک سے تین سال کے عرصے کے دوران 13 ادارے شامل ہوں گے، جبکہ آخری مرحلے میں تین سے پانچ سال کے دوران ایک ادارے کی نجکاری کی جائے گی۔ اس نئی فہرست سے پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز (پی آئی اے) اور فرسٹ ویمن بینک لمیٹڈ (ایف ڈبلیو بی ایل) کو خارج کر دیا گیا ہے، کیونکہ حکومت ان دونوں اداروں کی نجکاری کو کامیابی سے مکمل تصور کرتی ہے۔
تینوں بین الاقوامی ہوائی اڈوں کے علاوہ نجکاری کے پہلے مرحلے میں اسلام آباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (آئیسکو)، فیصل آباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (فیسکو)، گوجرانوالہ الیکٹرک پاور کمپنی (گیپکو)، نیویارک میں واقع روزویلٹ ہوٹل، زرعی ترقیاتی بینک لمیٹڈ (زیڈ ٹی بی ایل)، ہاؤس بلڈنگ فنانس کمپنی (ایچ بی ایف سی)، پاکستان انجینئرنگ کمپنی (پیکو) اور سندھ انجینئرنگ لمیٹڈ کو شامل کیا گیا ہے۔
دوسرے مرحلے کے دوران حکومت یوٹیلٹی اسٹورز کارپوریشن (یو ایس سی)، لاہور الیکٹرک سپلائی کمپنی (لیسکو)، ملتان الیکٹرک پاور کمپنی (میپکو)، حیدرآباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (حیسکو)، سکھر الیکٹرک پاور کمپنی (سیپکو)، پشاور الیکٹرک سپلائی کمپنی (پیسکو) اور ہزارہ الیکٹرک سپلائی کمپنی (ہیزیکو) کی نجکاری کا ارادہ رکھتی ہے۔ دوسرے مرحلے میں جیمشور پاور کمپنی، سینٹرل پاور جنریشن کمپنی لمیٹڈ (سی پی جی سی ایل)، ناردرن پاور جنریشن کمپنی لمیٹڈ (این پی جی سی ایل)، لاکھڑا پاور جنریشن کمپنی لمیٹڈ (ایل پی جی سی ایل)، اسٹیٹ لائف انشورنس کارپوریشن آف پاکستان اور پاکستان ری انشورنس کمپنی لمیٹڈ (پی آر سی ایل) بھی شامل ہیں۔
پروگرام کے تیسرے اور آخری مرحلے میں پوسٹل لائف انشورنس کمپنی کی نجکاری کا منصوبہ بنایا گیا ہے۔ یہ نظرثانی شدہ روڈ میپ خسارے میں چلنے والے سرکاری اداروں کا مالی بوجھ کم کرنے، کارکردگی کو بہتر بنانے اور معاشی اصلاحاتی ایجنڈے کے حصے کے طور پر نجی سرمایہ کاری کو راغب کرنے کے لیے حکومت کی وسیع تر کوششوں کی عکاسی کرتا ہے، اور یہ پروگرام مالیاتی استحکام کو بہتر بنانے اور معیشت میں نجی شعبے کے کردار کو مضبوط بنانے کے لیے پاکستان کے ساختی اصلاحاتی وعدوں کے عین مطابق ہے۔
