تحریر: تہمینہ تسنیمخواتین کے عالمی دن کا اجلاس جاری تھا۔ ہر کلاس کی خواتین کا جمِ غفیر تھا ۔ نچلے طبقے کی ایسی عورتیں بھی وہاں موجود تھیں جن کو پیسوں کا
تحریر: تہمینہ تسنیم
خواتین کے عالمی دن کا اجلاس جاری تھا۔ ہر کلاس کی خواتین کا جمِ غفیر تھا ۔ نچلے طبقے کی ایسی عورتیں بھی وہاں موجود تھیں جن کو پیسوں کا لالچ دے کر کچھ لوگ وہاں بسوں پر بیھا کر لے آئے تھے۔ وہ اس بات سے لاعلم تھیں کہ آخر یہ کس بات کا اجلاس ہے؟ انہی میں نادیہ بھی تھی۔ نادیہ ایک خواجہ سرا تھی۔ اس کو کافی دنوں سے کوئی فنکشن نہ ملا تھا جس کی وجہ سے اُس کی دیہاڑی نہ لگی تھی۔
موسم میں عجیب سی خنکی تھی جس کی وجہ سے کافی لوگ نزلہ ، زکام اور گلے خراب جیسے انفیکشنز میں تیزی سے مبتلا ہو رہے تھے۔ اس دفعہ تو جسے لاہور میں یہ انفیکشن لگتا وہ کم از کم مہینہ بھر ٹھیک نہ ہوتا تھا۔ نادیہ بھی کوئی دو ہفتے سے اسی وباء کے زیر اثر تھی اور بُری طرح بخار میں پھنک رہی تھی۔ بھلے وقتوں میں نادیہ کا باپ اپنے دوسرے بچوں سے چھپا کر پرانے محلے میں ایک مرلے کا کمرہ اس کے نام کر گیا تھا۔ نادیہ نے ہوش سنبھالتے ہی خود کو زمانے کے رحم و کرم پر پایا تھا اور خود محنت کرکے شادی و بیاہ کے فنکشنز اور گلی گلی ناچ کر روزی روٹی کمائی تھی۔ اس کا باپ مرنے سے پہلے کبھی کبھا ر رات کے اندھیرے میں لوگوں سے منہ چھپا کر اس سے کوئی ایک آدھ گھنٹے کے لیے ملنے آ جایا کرتا تھا ۔
اور یہ کمرہ ہی اس کی کل کائنات تھی اسی میں اس کا بستر بھی تھا اور چولہا بھی۔ ابھی کوئی دو ، چار دن سے نادیہ کی صحت کچھ بہتر ہو گئی تھی اتنے عرصے میں و ہ یہ سوچتی رہی کہ کاش وہ خواجہ سرا نہ ہوتی بلکہ ایک عورت ہوتی، اس کا بھی کوئی باپ، بھائی ، شوہر یا بیٹا ہوتا جو اس کی عزت کا محافظ ہوتا اور اس کا احساس کرتا اسے گھر کی چار دیواری میں کسی قیمتی چیز کی طرح رکھتا اور اسے یوں سڑکوں کی خاک نہ چھاننی پڑتی۔ وہ کما کر لاتے اور میں گھر میں ان کے لیے کھانا گرم کرتی، کپڑے استری کرتی اور ان کے موزے دھوتی اور جب وہ اپنی ضرورتوں اور کاموں کے لیے اسے پکارتے تو وہ سر پٹ پورے گھر میں دوڑے پھرتی اور خوشی خوشی سارے کام انجام دیتی۔
اپنے بھائی اور شوہر سے جو اس کی عزت کے محافظ ہیں یا اپنے باپ سے جس نے اس کی خاطر اپنے بال سفید کر لیے اور اسے پروان چڑھانے کے لیے خود کو راہوں کی دھول بنا لیتا ہےاور کیا یہ کوئی سازش ہے!
۔
نوٹ: یہ مصنف کا ذاتی نقطہ نظر ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔
۔
اگرآپ بھی ڈیلی پاکستان کیلئے لکھنا چاہتے ہیں تو اپنی تحاریر ای میل ایڈریس ’[email protected]‘ یا واٹس ایپ "03009194327" پر بھیج دیں۔