
واشنگٹن(ڈیلی پاکستان آن لائن)امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکہ اور ایران کے درمیان مجوزہ معاہدے میں بعض ترامیم کرنے کی ہدایت دی ہے، جس کا مقصد رواں سال کے آغاز میں شروع ہونے والی جنگ کے خاتمے کو یقینی بنانا ہے۔
بی بی سی اردو کے مطابق رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ مجوزہ تبدیلیاں آبنائے ہرمز اور ایران کے اعلیٰ سطح پر افزودہ یورینیم کے انخلا سے متعلق ہیں۔ وائٹ ہاؤس نے اس حوالے سے مزید تبصرہ کرنے سے گُریز کیا ہے۔
تاہم ایرانی چیف مذاکرات کار محمد باقر غالیباف نے اتوار کے روز کہا کہ تہران کسی ایسے معاہدے پر رضامند نہیں ہوگا جس میں ایران کے حقوق کا مکمل تحفظ یقینی نہ بنایا گیا ہو۔
صدر ٹرمپ اور ان کے سینئر معاونین نے جمعہ کے روز ایران کے ساتھ جنگ بندی میں توسیع کے لیے ایک فریم ورک پر ’حتمی فیصلہ‘ کرنے کے مقصد سے اجلاس منعقد کیا، تاہم ملاقات کسی واضح نتیجے یا آئندہ کے لائحۂ عمل کے بغیر ختم ہوگئی۔
معاہدے کے تازہ ترین مسودے میں 60 روزہ جنگ بندی، آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے اور ایران کے جوہری پروگرام پر مذاکرات کی بحالی کے لیے ایک فریم ورک شامل ہے۔ یہ تفصیلات امریکہ میں بی بی سی کے شراکت دار خبر رساں ادارے سی بی ایس نیوز نے رپورٹ کی ہیں۔
رپورٹ کے مطابق اگر سفارتی پیش رفت جاری رہتی ہے تو معاہدے میں ایران کے لیے ممکنہ پابندیوں میں نرمی بھی شامل ہو سکتی ہے، جس کے نتیجے میں تہران کو منجمد کیے گئے اربوں ڈالر کے اثاثوں تک رسائی حاصل ہو سکے گی۔
اتوار کو سامنے آنے والی یہ نئی ترامیم وائٹ ہاؤس اور تہران کے درمیان جاری کئی روزہ مذاکرات کا تازہ ترین مرحلہ ہیں، جن کا مقصد مہینوں سے جاری تنازع کے خاتمے کے لیے ایک جامع معاہدے کی بنیاد رکھنا ہے۔
یاد رہے کہ جمعرات کو امریکی حکام نے دعویٰ کیا تھا کہ دونوں ممالک ایک ابتدائی فریم ورک، جسے مفاہمتی یادداشت کہا جاتا ہے پر متفق ہو چکے ہیں تاہم اس کی حتمی منظوری صدر ٹرمپ اور ایرانی قیادت کی منظوری سے مشروط ہے۔
