
لاہور (ڈیلی پاکستان آن لائن) وزیراعلی مریم نواز شریف نے کرپشن جعلسازی شکایات پر مثالی گاؤں پروجیکٹ کو بند کردیا اور اینٹی کرپشن پنجاب کو تحقیات کا حکم دیدیا ہے۔
نجی ٹی وی چینل ’’ایکسپریس نیوز‘‘ کے مطابق 40 ارب روپے کی لاگت سے پنجاب کے800 دیہاتوں کو مثالی گاؤں بنانے پروجیکٹ کے تحت ترقیاقی کام کروانا تھے جس میں ابتدائی طور پر400 دیہاتوں کو شامل کیا گیا جہاں ترقیاتی کاموں کے لئے چار ارب سے زائد رقم جاری کی گئی تھی۔
سرگودھا ڈویژن کے دیہاتوں میں ترقیاتی کاموں کو شروع کروایا گیا اور اسکے لئے باقاعدہ ٹینڈرز مانگے گے لیکن ٹوبہ ٹیک سنگھ میں بااثر افسران وسیاسی گٹھ جوڑ سے پارٹنر شپ کی بنیاد پر جعلی کمپنیاں رجسٹرڈ کروائیں گئیں، مبینہ طور پر میرٹ کی بجائے ملی بھگت سے کام بھی حاصل کیے گئے اور ترقیاتی کاموں کے عوض ساڈھے تین ارب روپے بھی کنٹریکٹرز کو ادا کردیے گئے۔
انہوں نے کہا کہ شکایات سامنے آنے کے بعد مثالی گاؤں پروجیکٹ ختم کردیا ہے اسے مزید بہتر انداز میں کیمونٹی کو شامل کرکے نیا پروجیکٹ بنائیں گے۔ مثالی گاؤں میں جہاں درست کام ہوا انکی ادایگیاں ہونگی جہاں نہیں ہوا کرپشن ہوا انکے خلاف مقدمات درج ہونگے اور ریکوریاں بھی ہونگی۔
