
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن )اسلام آباد ہائیکورٹ نے بجلی کے کرنٹ سے دونوں ہاتھ گنوانے والی 9 سالہ بچی لبابہ کے علاج، جدید مصنوعی اعضاء اور بحالی کے اخراجات ادا کرنے سے متعلق صدرِ پاکستان کا فیصلہ برقرار رکھتے ہوئے پشاور الیکٹرک سپلائی کمپنی (پیسکو) کی درخواست مسترد کر دی۔
جسٹس اعظم خان کی عدالت نے کیس کا 11 صفحات پر مشتمل تحریری فیصلہ جاری کیا، جس میں پیسکو کی درخواست خارج کرتے ہوئے متاثرہ بچی کے علاج اور بحالی کے انتظامات سے متعلق حکم برقرار رکھا گیا۔
عدالت نے پیسکو کو ہدایت کی کہ بچی لبابہ کی آرمڈ فورسز انسٹی ٹیوٹ آف ری ہیبلیٹیشن میڈیسن، راولپنڈی سے جامع طبی جانچ کرائی جائے، پیسکو بچی کے جدید مصنوعی اعضاء، علاج اور بحالی کے تمام اخراجات برداشت کرنے کی پابند ہوگی۔ اگر ضروری علاج یا مصنوعی اعضا ءکی سہولت پاکستان میں دستیاب نہ ہوئی تو پیسکو کو بیرونِ ملک علاج کے اخراجات بھی ادا کرنا ہوں گے۔
بچی کے اہلِ خانہ نے معاوضے اور علاج کی فراہمی کے لیے وفاقی محتسب سے رجوع کیا تھا، وفاقی محتسب نے ابتدائی طور پر شکایت منظور کی، تاہم بعد ازاں نظرثانی اپیل میں فیصلہ تبدیل کر دیا گیا۔
بعد ازاں صدرِ پاکستان نے 30 اکتوبر 2025 کو اپنے فیصلے میں پیسکو کو بچی کے علاج اور مصنوعی اعضاء کی فراہمی کے انتظامات کرنے کی ہدایت کی تھی، جسے اسلام آباد ہائی کورٹ نے برقرار رکھا ہے۔
