لاپتہ ہونیوالے کارگوطیارے کا ملبہ مل گیا، عملے کے اہلخانہ کرب کی حالت میں تاحال منتظر

توانائی Jul 11, 2026 IDOPRESS

کراچی (ڈیلی پاکستان آن لائن)عرب سمندر میں کارگو طیارے کے حادثے کا شکار ہونے کے بعد لاپتہ ہونے والے پاکستانی معاون پائلٹ فیصل جتوئی اور دیگر چار افراد کے اہل خانہ جمعرات کے روز شدید اضطراب اور کرب کی حالت میں کسی خبر کے انتظار میں رہے، جبکہ دوسری جانب امدادی ٹیموں نے اپنی تلاش کا عمل جاری رکھا۔

پاک رپورٹ ویب سائٹ کے مطابق فیصل جتوئی منگل کی رات متحدہ عرب امارات کے شہر شارجہ سے کراچی آنے والے کے ٹو ائیرویز (K2 Airways) کے بوئنگ 737 فریٹر (کارگو طیارے) میں بطور معاون پائلٹ فرائض انجام دے رہے تھے کہ اس دوران طیارہ پاکستان کے جنوبی ساحل کے قریب سمندر برد ہو گیا۔ امدادی ٹیموں نے بدھ کے روز گہرے سمندر میں سرچ آپریشن کے دوران طیارے کا ملبہ تلاش کر لیا تھا۔


فیصل جتوئی کے سسر غلام نبی بہرانی نے کراچی میں اپنے گھر پر رائٹرز سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ جب فیصل جتوئی سے رابطہ نہ ہو سکا تو ان کا خاندان شدید تشویش میں مبتلا ہو گیا، اور جب انہوں نے گوگل پر سرچ کیا تو وہاں لفظ "کریش” (حادثہ) دیکھ کر ان پر قیامت ٹوٹ پڑی۔ انہوں نے بتایا کہ وہ لمحہ ہمارے لئے بالکل قیامت جیسا تھا۔ لاپتہ کوپائلٹ فیصل جتوئی کی ایک اہلیہ اور دو سال کا بیٹا ہے۔


غلام نبی بہرانی کے مطابق یہ کارگو طیارہ ایک 27 سال پرانا بوئنگ 400-737 تھا جسے مسافر طیارے سے کارگو میں تبدیل کیا گیا تھا، اور وہ عملے کی واپسی سے قبل امریکہ سے ایک سپیئر پارٹ (اضافی پرزے) کی آمد کا منتظر تھا جس کی وجہ سے اس نے مرمت کے سلسلے میں شارجہ میں 10 دن گزارے تھے۔


پاکستان ائیرپورٹس اتھارٹی کے مطابق طیارے نے کراچی کے راستے پر منگل کی رات پاکستانی وقت کے مطابق 9 بج کر 18 منٹ (1618 GMT) پر نیویگیشن (راستہ یابی کے نظام) میں خرابی کی اطلاع دی تھی، جبکہ فلائٹ ریڈار 24 (Flightradar24) کے ڈیٹا سے پتا چلتا ہے کہ تیزی سے نیچے گرنے سے پہلے طیارے کی بلندی میں غیر معمولی اور غیر مستحکم تبدیلیاں آئی تھیں۔ بدھ کے روز اورمارہ بندرگاہ سے 53 ناٹیکل میل (98 کلومیٹر) جنوب میں طیارے کا ملبہ ملا تھا، اور اب پاک بحریہ اور میری ٹائم سیکیورٹی کی ٹیمیں فلائٹ ریکارڈر (بلیک باکس) کی تلاش میں مصروف ہیں۔


کے ٹو ائیرویز کا کہنا ہے کہ طیارے پر مجموعی طور پر پانچ افراد سوار تھے جن میں دو پائلٹ، دو انجینئرز اور ایک سپورٹ اسٹاف (امدادی اہلکار) شامل ہے، تاہم ابھی تک باضابطہ طور پر ان کی حالت کے بارے میں کوئی اعلان نہیں کیا گیا۔ ایک پاکستانی ہوا بازی کے ماہر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ یہ ریکوری (ملبہ اور لاشیں نکالنے کا کام) پاکستان کی حالیہ تاریخ کی مشکل ترین کارروائیوں میں سے ایک ہو سکتی ہے کیونکہ عرب سمندر کے اس حصے میں پانی کی گہرائی تقریباً 2500 سے لے کر 3500 میٹر سے بھی زیادہ ہے۔


انہوں نے مزید بتایا کہ سمندر کی تیز لہریں، دھندلا پن، سمندری تہہ کا ناہموار ہونا اور سمندر کی بدلتی ہوئی صورتحال ڈوبے ہوئے ملبے اور فلائٹ ریکارڈرز کو نکالنے کی کوششوں کو مزید پیچیدہ بنا سکتی ہے۔ انہوں نے نام نہ بتانے کی شرط اس لئے رکھی کیونکہ وہ اس معاملے پر عوامی سطح پر بات کرنے کے مجاز نہیں تھے۔


آل اسٹار ٹیکنالوجی آن لائن ٹیکنالوجی: ٹیک، AI، ایرو اسپیس، بایوٹیک، اور توانائی کی خبروں کے لیے آپ کا ذریعہ

آرین اسٹار ٹیکنالوجی، ایک ٹیکنالوجی نیوز پورٹل۔ ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت، بائیوٹیکنالوجی، ڈیٹا اور دیگر شعبوں میں تازہ ترین پیشرفت کی اطلاع دینے کے لیے وقف ہے۔
© ایرن اسٹار ٹیکنالوجی رازداری کی پالیسی ہم سے رابطہ کریں