خیبرپختونخوا حکومت کے خصوصی مراعات دینے پر سخت تنقید ،وفاق ایسی کسی قانون سازی پر عمل درآمد نہیں کرے گی، طلال چوہدری کا اعلان 

توانائی Jul 10, 2026 IDOPRESS


اسلام آباد (ویب ڈیسک) وفاقی وزیر مملکت طلال چوہدری نے خیبرپختونخوا حکومت کی جانب سے اراکین اسمبلی کو بلیو پاسپورٹ اور دیگر خصوصی مراعات دینے پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ مراعات دراصل ’سیاسی رشوت‘ ہیں، جن سے نہ صرف وی آئی پی کلچر کو فروغ ملتا ہے بلکہ پاکستان کے پاسپورٹ کی عالمی ساکھ بھی متاثر ہو سکتی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ وفاقی حکومت ایسی کسی قانون سازی پر عمل درآمد نہیں کرے گی۔


وفاقی وزیر مملکت طلال چوہدری نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ عوامی نمائندوں کو خصوصی مراعات کے بجائے عام شہریوں کی طرح زندگی گزارنی چاہیے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ کیا عام آدمی کو مفت سفر، مفت اسلحہ لائسنس، سرکاری ریسٹ ہاؤسز میں مفت رہائش، گاڑیوں پر کالے شیشے، خصوصی نمبر پلیٹیں، سرکاری سکیورٹی یا بلیو پاسپورٹ رکھنے کی سہولت حاصل ہے؟ اگر نہیں، تو منتخب نمائندوں کو بھی ایسی غیر ضروری مراعات نہیں ملنی چاہییں۔


انہوں نے کہا کہ جو جماعت وی آئی پی کلچر کے خاتمے کے نعرے لگاتی تھی، آج وہی اپنے اراکین اسمبلی کو خصوصی مراعات دے کر اپنے ہی مؤقف کی نفی کر رہی ہے۔ ان کے بقول یہ تمام مراعات ایک “سیاسی رشوت” ہیں، جن کے ذریعے اپنی جماعت کے اراکین کو نوازا جا رہا ہے۔


طلال چوہدری نے کہا کہ اگر یہ مراعات ختم کر دی جائیں تو منتخب نمائندے بھی عام شہریوں کی طرح زندگی گزاریں گے، کیونکہ عوامی خدمت کا تعلق مراعات سے نہیں بلکہ کارکردگی سے ہوتا ہے۔انہوں نے دعویٰ کیا کہ بلیو پاسپورٹ کے غلط استعمال کی مثال پہلے بھی سامنے آ چکی ہے۔ ان کے مطابق پی ٹی آئی کے رکن قومی اسمبلی اقبال آفریدی کے بیٹے نے بلیو پاسپورٹ پر یورپ کا سفر کیا، وہاں جا کر سیاسی پناہ کی درخواست دی اور اپنا پاکستانی پاسپورٹ سرنڈر کر دیا، جس سے پاکستان کی بین الاقوامی سطح پر بدنامی ہوئی۔


وفاقی وزیر مملکت نے کہا کہ ماضی میں ایسے ہی اقدامات کے باعث پاکستانی پاسپورٹ کی عالمی ساکھ متاثر ہوئی، تاہم گزشتہ ڈھائی برس کے دوران حکومت نے پاسپورٹ کے سیکیورٹی فیچرز بہتر بنائے، جعلی پاسپورٹس کے اجرا کا خاتمہ کیا، پاسپورٹ کے اجرا کا نظام مزید شفاف بنایا اور غیر مستحق افراد سے سرکاری پاسپورٹس واپس لیے، جس کے نتیجے میں پاکستانی پاسپورٹ کی عالمی درجہ بندی میں تقریباً 25 سے 30 درجے بہتری آئی اور اس کی رینکنگ 100 سے نیچے آ گئی۔


انہوں نے کہا کہ انہی اصلاحات کی بدولت متعدد یورپی اور خلیجی ممالک نے پاکستانی سرکاری اور سفارتی پاسپورٹ رکھنے والوں کے لیے ویزا فری یا آسان سفری سہولتوں کے معاہدے کیے، جبکہ غیر مستحق افراد کے پاس موجود ریڈ پاسپورٹس کی تعداد بھی نمایاں طور پر کم کی گئی۔


طلال چوہدری نے کہا کہ اس کے برعکس بلیو پاسپورٹس کی تعداد میں اضافہ کیا جا رہا ہے، جو پاکستان کے پاسپورٹ کی ساکھ کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ وفاقی حکومت ایسی کسی قانون سازی پر عمل درآمد کی پابند نہیں جو پاکستان کے مفاد، پاسپورٹ کی عالمی حیثیت یا قومی وقار کو نقصان پہنچائے۔


انہوں نے دوٹوک انداز میں کہا کہ ممنوعہ بور کے اسلحہ لائسنس، بلاجواز بلیو پاسپورٹس اور دیگر غیر ضروری مراعات پر مبنی کسی بھی قانون یا فیصلے پر وفاقی حکومت عمل نہیں کرے گی۔

آل اسٹار ٹیکنالوجی آن لائن ٹیکنالوجی: ٹیک، AI، ایرو اسپیس، بایوٹیک، اور توانائی کی خبروں کے لیے آپ کا ذریعہ

آرین اسٹار ٹیکنالوجی، ایک ٹیکنالوجی نیوز پورٹل۔ ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت، بائیوٹیکنالوجی، ڈیٹا اور دیگر شعبوں میں تازہ ترین پیشرفت کی اطلاع دینے کے لیے وقف ہے۔
© ایرن اسٹار ٹیکنالوجی رازداری کی پالیسی ہم سے رابطہ کریں