معاملات یو ٹرن لیتے دکھائی دے رہے تھے، دعائیں اور محنتیں رنگ لائیں،ڈاکٹر نے 2 صحت مند نوجوان لڑکوں کے خون کا بندوبست کرنے کو کہا 

حیاتیات Oct 4, 2026 IDOPRESS

مصنف:اللہ دتہ نجمی


قسط:77


ڈاکٹر نے 2 صحت مند نوجوان لڑکوں کے خون کا بندوبست کرنے کو کہا جو عام روایتی طریقے کی بجائے کسی جدید مشین کی مدد سے حاصل کرنا تھا۔ اِس دفعہ یہ مہربانی پروفیسر ارشد ارشاد، ایچ او ڈی، ہسٹری ڈیپارٹمنٹ، اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور نے کی۔ وہ اپنے4 طالب علموں کو ساتھ لے آئے۔ جن میں سے 2کا گروپ علی کے بلڈ گروپ سے میچ کر گیا۔ علی کو ان کا خون خوب راس آیا۔ جب ٹیسٹ کروائے گئے تو پلیٹلٹس کی مقدار میں ناقابلِ یقین حد تک اضافہ ہو چکا تھا۔ معاملات یو ٹرن لیتے دکھائی دے رہے تھے۔ اس وقت ہماری خوشی کی انتہا نہ رہی جب ڈاکٹر نے مسکراتے ہوئے بتایا کہ اب آپ کے مریض کی حالت خطرے سے باہر ہے۔ اللہ کا شکر ادا کیا جس نے علی کو ایک اعتبار سے دوبارہ زندگی بخشی۔ نو دن وہاں زیرِ علاج رہنے کے بعد علی کو دوبارہ اسی وارڈ میں شفٹ کر دیا گیا۔ بہت سے لوگوں کی دعائیں اور محنتیں رنگ لائیں اور تین چار روز کے بعد ٹیسٹ رپورٹس معمول کے مطابق آنے پر علی کو ہسپتال سے ڈسچارج کر دیا گیا۔ حدیث شریف ہے کہ آزمائش جتنی بڑی ہوتی ہے اسی حساب سے اس کا بدلہ بھی بڑا ہوتا ہے۔ اللہ نے ہمیں ایک بہت بڑی آزمائش میں ڈالا اور پھر اپنے کرم سے نکال بھی دیا۔ 19 دن بی وی ہسپتال میں گزارنے کے بعد علی گھر جا رہا تھا اور ہم راولپنڈی واپس آ رہے تھے۔ یہ دن میری زندگی کا ایک یادگار دن تھا جو مجھے چوہدری جعفر، ریاض الحق، پروفیسر ارشد ارشاد، نجیب اسلم، ڈاکٹر مستنصر وڑائچ، فیضان اور سی سی یو کے ایک فرض شناس ڈاکٹر (نام بھول گیا ہوں) کی مہربانیوں اور نوازشات کا ہمیشہ کے لئے مقروض بنا گیا۔ سایہ دار بیری کا درخت بھی مجھے کبھی نہیں بھولا۔


مہربان کیسے کیسے


وائسرائے ہند کی دیدہ زیب بگھی پر سونے سے مُرَصَّع کاری کی گئی تھی۔ وائسرائے ہند کے رعب و دبدبہ کی طرح اِس بگھی کی ہَیئَتِ تَرکِیبی میں بھی ایک سحر تھا جسے اُس زمانے میں اقتدار کی غلام گردشوں کی باریکیوں اور نزاکتوں کو سمجھنے والے بخوبی واقف تھے۔ انگریزوں کے ہندوستان سے کوچ کرنے کے بعد اِس تاریخی اہمیت کی حامل بگھی کے حقِ ملکیت پر دونوں نوزائیدہ ممالک میں ایک تنازعہ اُٹھ کھڑا ہوا۔ کوئی بھی اِس بگھی کی ملکیت سے دستبردار ہونے کے لئے تیار نہیں تھا۔ چنانچہ باہمی مذاکرات کے ذریعے اِس قضیے کو سلجھانے کی کوششیں شروع ہو گئیں۔ بھارت کی طرف سے ٹھاکر گووند سنگھ اور پاکستان کی طرف سے صاحبزادہ یعقوب علی خان کے درمیان گفت و شنید شروع ہوئی۔


دونوں نمائندوں کے بے لچک اور سخت مؤقف کی وجہ سے جب کوئی نتیجہ برآمد نہ ہو سکا تو بالآخر ٹاس کے ذریعے اِس معاملے کو حل کرنے پر اتفاق رائے ہوا۔ ٹاس میں ہندوستان کی قسمت نے یاوری کی اور وہ بگھی ہندوستان کی ملکیت ٹھہری۔۔۔۔۔۔ وہاں انتہائی قیمتی قومی اثاثوں کی طرح اِس بگھی کی نگہداشت کی گئی۔ اب بھی قومی تہواروں کے مواقع پر صدر یا وزیراعظم اِس بگھی پر سوار ہوتے ہیں اور فخر محسوس کرتے ہیں۔ ذرا سوچ کے بتائیے۔۔۔۔ اگر اُس موقع پر ٹاس پاکستان جیت جاتا تو وہ بگھی اِس وقت کہاں اور کس حال میں ہوتی؟؟


اپنے وقت کی خاتون اول، بیگم ناہید سکندر کو ایک طرف چیلوں، گِدْھوں (vultures) اور کوؤں سے سخت نفرت تھی تو دوسری طرف انہوں نے بلیاں (cats) پالنے کا شوق پال رکھا تھا۔ مالیوں کو سخت احکامات ملے ہوئے تھے کہ بیگم صاحبہ کی نازک طبیعت پر گراں گزرنے والے یہ قابلِ نفرت پکھیرو ایوانِ صدر کے درختوں اور دیواروں پر بیٹھنے نہ پائیں۔ مالی سارا دن اِس نادر شاہی حکم کی تعمیل میں سرگرداں رہتے۔


(جاری ہے)


نوٹ: یہ کتاب ”بک ہوم“ نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوظ ہیں)ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

آل اسٹار ٹیکنالوجی آن لائن ٹیکنالوجی: ٹیک، AI، ایرو اسپیس، بایوٹیک، اور توانائی کی خبروں کے لیے آپ کا ذریعہ

آرین اسٹار ٹیکنالوجی، ایک ٹیکنالوجی نیوز پورٹل۔ ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت، بائیوٹیکنالوجی، ڈیٹا اور دیگر شعبوں میں تازہ ترین پیشرفت کی اطلاع دینے کے لیے وقف ہے۔
© ایرن اسٹار ٹیکنالوجی رازداری کی پالیسی ہم سے رابطہ کریں