
نیویارک(ڈیلی پاکستان آن لائن)ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے نیویارک سے تہران روانگی سے قبل کہا ہے کہ ’قطر کے ذریعے ایران کا سات نکاتی منصوبہ امریکہ تک پہنچا دیا گیا ہے اور اب ایران امریکی جواب کا انتظار کر رہا ہے۔‘
بی بی سی اردو کے مطابق عباس عراقچی نے ایرانی خبر رساں ادارے ارنا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’پیر کو قطری ثالث کے ذریعے ہونے والی بات چیت میں ایران کا مؤقف امریکہ تک پہنچایا گیا۔‘ ان کے مطابق توقع ہے کہ وائٹ ہاؤس کا جواب منگل کو ثالثوں کے ذریعے ایران تک پہنچ جائے گا۔
انھوں نے کہا کہ ’ہمارا مشن امریکی فریق کو ان شرائط سے آگاہ کرنا اور دیگر تمام ممالک اور عالمی برادری کو یہ بتانا تھا کہ ایران کے پاس اس معاملے میں ایک منصوبہ موجود ہے۔ اس کی شرائط مکمل طور پر منصفانہ اور منطقی ہیں اور اگر امریکی یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ وہ کسی معاہدے یا پُرامن حل کے خواہاں ہیں تو ہم نے یہ حل پیش کر دیا ہے۔‘
ایرانی وزیر خارجہ نے گذشتہ چند گھنٹوں کے دوران سامنے آنے والی ان قیاس آرائیوں کی بھی تردید کی جن میں کہا جا رہا تھا کہ ایران اپنے جوہری پروگرام میں لچک دکھانے پر آمادہ ہو گیا ہے۔
انھوں نے کہا کہ ’گذشتہ چند گھنٹوں سے مختلف ذرائع ابلاغ میں پروپیگنڈا جاری ہے اور ایران سے متعلق دعوے کیے جا رہے ہیں اور باتیں منسوب کی جا رہی ہیں۔ میں واضح طور پر کہتا ہوں کہ ایران کے مؤقف میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔ آبنائے ہرمز کھولنے کے لیے ہماری شرائط واضح ہیں۔‘
عباس عراقچی ایرانی صدر مسعود پزشکیان اور دیگر اعلیٰ سفارت کاروں کے ہمراہ اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کے لیے نیویارک گئے تھے۔
ان کے بقول اس دورے کے نتائج سے ظاہر ہوا ہے کہ ’اسلامی جمہوریہ ایران، امریکہ اور صہیونی حکومت کی جانب سے پیش کرنے کی کوشش کے برعکس، بالکل بھی تنہا نہیں بلکہ اسے بہت زیادہ احترام حاصل ہے۔‘
انھوں نے کہا کہ متعدد ملاقاتوں میں یہ بات سامنے آئی کہ ان ممالک کے عوام اور حکام ایران کے اقدامات اور دنیا کی سب سے بڑی ’ورچوئل فوج‘ کے خلاف اس کی مزاحمت کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں، جس پر بہت سے مختلف ممالک اور لوگ فخر محسوس کرتے ہیں۔
