مارکیٹنگ ڈیپارٹمنٹ فلم بیچنے کا اہتمام کرتا ہے، بولی لگتی ہے اور کچھ سودے بازی کے بعد فلم مقررہ رقم اور شرائط پر ڈسٹری بیوٹر کے حوالے کر دی جاتی ہے

حیاتیات Sep 28, 2026 IDOPRESS

مصنف: محمد سعید جاوید


قسط:86


ڈسٹری بیوٹر اور سینماؤں کو فلم کی ترسیل


جب پروڈیوسر اور ڈائریکٹر فلم مکمل کر لیتے ہیں اس تو اگلا مرحلہ اس کو سینما ہاؤس کے پروجیکٹر روم تک پہنچانا ہوتا ہے۔ جہاں یہ فلم چلائی جانا مقصود ہو۔ اس کا طریقہ کار کچھ یوں ہے:


فلم مکمل ہونے کے بعد اور ڈسٹری بیوٹر کو بھیجنے سے پہلے پروڈیوسر اور ڈائریکٹر اس فلم کو اسٹوڈیو کے اندر ہی بنے ہوئے پروجیکشن ہال سینما میں بغور دیکھنے کا اہتمام کرتے ہیں۔بعض اوقات فلم سے متعلقہ ناقدین اور صحافتی نمائندوں اور تقسیم کار کمپنیوں کے نمائندوں کو فلم دیکھنے کی دعوت دی جاتی ہے۔ پھر سب مل کر فلم کا تنقیدی جائزہ لیتے ہیں۔ اور تصور میں اندازہ لگاتے ہیں کہ تماشائیوں کو یہ فلم کیسی لگے گی۔ یہ تیار فلم کا آخری معائنہ ہوتا ہے۔ اس کے بعد پروڈیوسر فلم کو لاک کر دیتا ہے اور اس کی کچھ کاپیاں بنا کر ڈسٹری بیوشن کے لیے مارکیٹنگ ڈیپارٹمنٹ کو دے دی جاتی ہیں۔یہاں ڈائریکٹر کا کردار ختم ہو جاتا ہے، کیونکہ اس نے فلم مکمل کر کے اپنی ذمہ داری پوری کر دی ہوتی ہے۔


پروڈیوسر اپنے پروجیکٹ کی لاگت اور منافع وغیرہ جمع کر کے فلم کی ایک قیمت مقرر کرتا ہے۔ جس کے بعد اس کا مارکیٹنگ ڈیپارٹمنٹ مختلف فلم ڈسٹری بیوٹروں سے رابطہ کرتا ہے اور ان کو بلا کر یہ فلم دکھاتا ہے اور اسے بیچنے کا اہتمام کرتا ہے۔فلم کی بولی لگتی ہے اور کچھ سودے بازی کے بعد فلم مقررہ رقم اور شرائط پر ڈسٹری بیوٹر کے حوالے کر دی جاتی ہے۔ اور یہاں پروڈیوسر کا کردار بھی ختم یا کم ہو جاتا ہے۔ کیونکہ اس نے بھی اپنی فلم کی قیمت مع منافع ڈسٹری بیوٹر سے وصول کر لی ہوتی ہے۔اس کے بعد فلم نمائش کی ساری ذمہ داری ڈسٹری بیوٹر کی ہی ہوتی ہے۔ تاہم بعض حالات میں معاہدے میں ایسی شرائط بھی رکھی جاتی ہیں کہ اگر فلم توقع سے زیادہ کامیاب ہو جائے تو پروڈیوسر اضافی رقم میں سے اپنا مزید حصہ بھی لے سکے۔


ڈسٹری بیوٹر اس فلم کی قیمت خرید میں اپنے اخراجات اور منافع جمع تفریق کر کے سینما مالکان کو اسے خریدنے یا کرائے پر دینے کے لیے دعوت دیتا ہے۔ جہاں سے یہ فلم سینماؤں میں بھیج دی جاتی ہے جو اس کو سینما میں چلا کر طے شدہ معاوضہ ڈسٹری بیوٹر کے حوالے کر کے اپنا منافع رکھ لیتے ہیں۔لیکن یہ سارا کام اتنا سادہ نہیں ہے جتنا کہ نظر آتا ہے اس لیے اس پر تفصیل سے روشنی ڈالنا ضروری ہے۔


ابتدا میں جب امریکہ میں فلمیں بننا شروع ہوئیں تو اس وقت ہالی ووڈ میں مختلف فلم ساز کمپنیاں اپنے بینر تلے فلمیں بنا رہی تھیں۔ وہ سینما ہی خرید لیتے تھے یا ان کے ساتھ ایسا معاہدہ ہو جاتا تھا کہ وہ صرف ان ہی کی کمپنی کی بنی ہوئی فلمیں چلا سکتے تھے اور کسی دوسری جگہ سے فلم نہیں اٹھاسکتے تھے۔ یوں اپنی شرائط پر یہ فلم انہیں دے دیتے تھے۔وہ سینما اس شرط کا پابند ہو جاتا تھا۔ یہ گھاٹے کا سودا تھا کیونکہ ان کو مجبور کیا جا تا تھا کہ وہ صرف ان ہی کی بنائی گئی فلمیں چلائیں۔ اس کاروبار پر تین چار بڑی فلمساز کمپنیوں کی اجارہ داری تھی ان کے علاوہ اگر کوئی اور ایک آدھ فلم بنا لیتا تو اس کو نمائش کے لیے سینما دستیاب نہیں ہوتے تھے۔ لہٰذا ایسے سب چھوٹے فلم سازوں نے مل کر امریکہ کی سپریم کورٹ میں اپیل کر دی کہ ان چند فلم کمپنیوں کی اجارہ داری کو ختم کر کے سینماؤں کو آزادانہ طور پر کسی بھی فلمساز کمپنی سے فلمیں خریدنے کی اجازت دی جائے۔ یہ درخواست منظور ہوئی۔ اب کوئی بھی فلم ساز یا ڈسٹری بیوٹر کسی بھی سینما مالک سے معاہدہ کر کے وہاں اپنی فلمیں بھیج سکتا تھا۔ یوں برسوں پرانی فلم سازوں کی اس کاروباری بدمعاشی سے چھوٹے سرمایہ کاروں کی جان چھوٹی۔


(جاری ہے)


نوٹ: یہ کتاب ”بک ہوم“ نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوظ ہیں)ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

آل اسٹار ٹیکنالوجی آن لائن ٹیکنالوجی: ٹیک، AI، ایرو اسپیس، بایوٹیک، اور توانائی کی خبروں کے لیے آپ کا ذریعہ

آرین اسٹار ٹیکنالوجی، ایک ٹیکنالوجی نیوز پورٹل۔ ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت، بائیوٹیکنالوجی، ڈیٹا اور دیگر شعبوں میں تازہ ترین پیشرفت کی اطلاع دینے کے لیے وقف ہے۔
© ایرن اسٹار ٹیکنالوجی رازداری کی پالیسی ہم سے رابطہ کریں