
مکہ مکرمہ (محمد اکرم اسد) آج منگل 9 ذوالحجہ کو حج کا رکن اعظم وقوف عرفہ کی ادائیگی کے لئے عازمین حج کے قافلے صبح صادق کے ساتھ ہی اللہ سبحان و تعالی کی وحدانیت کا اقرار کرتے ہوئے میدان عرفات کی طرف سواری اور بغیر سواری کے رواں دواں ظہر سے پہلے میدان عرافات میں پہلے سے موجود خیموں میں پڑاؤ ڈالنا ہے اور حجاج کرام خطبہ حج جو میدان عرفات میں قائم تاریخی مسجد نمرہ میں امام مسجد النبوی شریف ڈاکٹر شیخ علی الحذیفی دیں گے کے بعد ظہر اور عصر کی قصر نمازیں علیحدہ علیحدہ تکبیر کے ساتھ مسجد اور اپنے خیموں میں ہی ادا کریں گے اور سورج غروب ہونے تک دعاؤں، تسبیحات اور مناجات میں مشغول رہیں گے۔
یہ وہ مبارک مقام مانا جاتا ہے جہاں نبی کریم ﷺ نے حجۃ الوداع کے موقع پر اپنا عظیم اور تاریخی خطبہ ارشاد فرمایا تھا۔۔۔حجۃ الوداع کے اس خطبے میں نبی کریم ﷺ نے انسانیت، مساوات، حقوق العباد، عورتوں کے حقوق، بھائی چارے اور امت کی رہنمائی کے سنہری اصول بیان فرمائے تھے۔۔۔
آج بھی مسجد نمرہ دنیا بھر کے مسلمانوں کے لیے روحانی، تاریخی اور اسلامی عظمت کی ایک اہم علامت سمجھی جاتی ہے۔عازمین حج فجر کی نماز ادا کر کے جب میدان عرفات کے لئے نکلے تو انکے چہرے دیدنی خوشی سے ٹمٹما رہے تھے کہ انکو اللہ سبحان و تعالی ایسا موقع فراہم کر رہا ہے جسکی خواہش وہ ساری عمر کرتے آئے ہیں
عازمین حج نے پیر کا دن میدان منٰی میں تلاوت، مناجات، دعائیں اور تلبیہ کرتے گزارا، موسم سخت گرم ہونے کی وجہ سے ٹھنڈک پہنچانے کے لیے سعودی حکومت کی طرف سے خصوصی انتظامات کر رکھے ہیں، جبکہ سایہ دار درخت بھی بڑی تعداد میں موجود ہیں اسکے علاوہ پانی پھیکنے والے پینکھے بھی ہوا کے ساتھ فوار پھینکتے ہیں جس سے گرمی کا احساس کم ہو جاتا ہے#
