مردہ خانے کی تمام گھڑیاں ایک ساتھ چل پڑیں،وقت پھر آگے بڑھنے لگا۔ لیکن ایک گھڑی اب بھی رکی ہوئی تھی، اس نے حیرت سے اپنی کلائی دیکھی

بڑا ڈیٹا Oct 4, 2026 IDOPRESS

مصنف: ارشادالعصر جعفری


قسط:30


”چوتھا کون ہے؟“ زاور نے پوچھا۔


وجود نے پہلی بار مسکرایا۔ ”یہی تو معلوم کرنا ہے۔“


”کسے؟“


”تمہیں۔“


اسی لمحے مردہ خانے کی تمام گھڑیاں ایک ساتھ چل پڑیں --- ٹک، ٹک، ٹک --- وقت پھر آگے بڑھنے لگا۔ لیکن ایک گھڑی اب بھی رکی ہوئی تھی، اور وہ گھڑی دیوار پر نہیں، زاور کے ہاتھ میں تھی۔ اس نے حیرت سے اپنی کلائی دیکھی --- گھڑی اب بھی 02:27 دکھا رہی تھی، اور اس کے شیشے کے اندر ایک باریک سی دراڑ پھیل رہی تھی۔ دراڑ کے اندر سے سیاہ رنگ ابھرنے لگا، اور پھر اس سیاہی نے خود بخود ایک لفظ لکھ دیا: ”واپس۔“


زاور نے گھڑی اتارنے کی کوشش کی، مگر پٹی اس کی کلائی سے چپکی ہوئی تھی۔ وجود نے اسے دیکھا۔”اب وقت تمہارا نہیں رہا۔“


زاور نے پہلی بار غصے سے پوچھا: ”تو پھر کس کا ہے؟“


مخلوق نے جواب دیا: ”جس دن تم پیدا ہوئے تھے،“ وہ ایک قدم پیچھے ہٹی، دروازے کی تاریکی میں اس کا جسم دھندلا ہونے لگا، ”اسی دن سے تمہارا وقت میرے پاس ہے۔ اور آج،“ وہ آخری بار زاور کی طرف دیکھ کر بولی، ”میں اسے واپس لینے آیا ہوں۔“


دروازہ اچانک بند ہو گیا --- دھڑام!


زاور نے آگے بڑھ کر دروازہ کھولا۔ دوسری طرف کوئی کمرہ نہیں تھا، صرف اینٹوں کی ایک پرانی دیوار، جیسے وہاں کبھی دروازہ تھا ہی نہیں۔ سلمان نے خاموشی سے فائل بند کر دی۔ عبدالودود نے دیوار کو دیکھا، پھر زاور کو، اور بہت آہستہ کہا: ”اب مجھے یقین ہو گیا ہے۔“


”کس بات کا؟“


”کہ انسانپ،“ وہ رک گیا، ”تمہیں جانتا ہے۔ مگر اس سے بھی زیادہ خوفناک بات یہ ہے،“ اس نے زاور کی کلائی کی طرف دیکھا، ”کہ شاید تم بھی اسے کبھی جانتے تھے۔“


زاور دیر تک اپنی کلائی کو دیکھتا رہا۔ گھڑی کی سوئیاں اب بھی 02:27 پر رکی ہوئی تھیں، مگر وہ دراڑ اب غائب تھی، اس کی جگہ ایک چھوٹا سا سیاہ نقطہ تھا --- ایسا لگ رہا تھا جیسے شیشے کے دوسری طرف کسی نے انگلی رکھ دی ہو۔ زاور نے انگلی سے اسے چھونے کی کوشش کی۔ نقطہ حرکت کر گیا۔ وہ شیشے کے اندر نہیں تھا، وہ اس کی انگلی کے ساتھ ساتھ چل رہا تھا۔ زاور نے فوراً ہاتھ پیچھے کھینچ لیا۔


”یہ گھڑی اتارو،“ سلمان نے کہا۔ زاور نے کوشش کی، پٹی نہیں کھلی، اس نے پوری قوت لگائی، پھر بھی نہیں۔ عبدالودود نے جیب سے ایک چھوٹی سی چاقو نما چیز نکالی۔ ”اسے کاٹنا ہوگا۔“ جیسے ہی دھار پٹی کے قریب پہنچی، گھڑی کی سوئیاں حرکت کرنے لگیں --- ٹک، ایک منٹ آگے، ٹک، پھر دوسرا۔ 02:28، 02:29، 02:30۔ پھر گھڑی اچانک رک گئی: 03:13۔


عبدالودود کے ہاتھ سے وہ چھوٹی دھار گر گئی۔ ”کیا ہوا؟“ سلمان نے پوچھا۔ عبدالودود نے جواب نہیں دیا، وہ گھڑی کو دیکھ رہا تھا، اس کے چہرے پر ایسی کیفیت تھی جیسے اس نے کوئی پرانی موت دوبارہ دیکھ لی ہو۔ 03:13۔۔۔ اس نے آہستہ کہا، ”اسی وقت 1986 میں ہمارے کیمپ کا پہلا خیمہ جلا تھا۔“(جاری ہے)


نوٹ: ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں

آل اسٹار ٹیکنالوجی آن لائن ٹیکنالوجی: ٹیک، AI، ایرو اسپیس، بایوٹیک، اور توانائی کی خبروں کے لیے آپ کا ذریعہ

آرین اسٹار ٹیکنالوجی، ایک ٹیکنالوجی نیوز پورٹل۔ ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت، بائیوٹیکنالوجی، ڈیٹا اور دیگر شعبوں میں تازہ ترین پیشرفت کی اطلاع دینے کے لیے وقف ہے۔
© ایرن اسٹار ٹیکنالوجی رازداری کی پالیسی ہم سے رابطہ کریں