
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)سپریم کورٹ نے قرار دیا ہے کہ نابالغ بچے کے نان و نفقے کا تعین کرتے وقت بچے کی معقول ضروریات، والد کی مالی استطاعت، آمدنی اور سماجی حیثیت کو مدنظر رکھا جائے گا جبکہ نچلی عدالتوں کی جانب سے مقرر کردہ نان و نفقہ کی رقم میں مداخلت صرف اسی صورت کی جا سکتی ہے جب فیصلہ واضح طور پر من مانی، غیر معقول یا قانون کے خلاف ہو۔
نجی ٹی وی چینل جیو نیوز کے مطابق جسٹس عرفان سعادت خان اور جسٹس عقیل احمد عباسی پر مشتمل دو رکنی بینچ نے مسما شاہین نواز کی اپیل کی اجازت کی درخواست مسترد کرتے ہوئے سندھ ہائی کورٹ کا فیصلہ برقرار رکھا۔
عدالت نے اپیل کی اجازت کی درخواست مسترد کرتے ہوئے سندھ ہائی کورٹ کا فیصلہ برقرار رکھا۔
