
بالاکوٹ(ڈیلی پاکستان آن لائن) سانحہ 8 اکتوبر کو 21 سال مکمل ہوگئے، 8 اکتوبر 2005 کا ہولناک زلزلہ کسی قیامت صغریٰ سے کم نہ تھا۔
نجی ٹی وی چینل دنیا نیوز کے مطابق سانحہ 8 اکتوبر 2005ڑ کو خیبر پختونخوا اور آزاد جموں و کشمیر میں آنے والے تباہ کن زلزلے میں 86 ہزار سے زائد افراد لقمہ اجل بنے تھے، قدرتی آفت نے آزاد جموں و کشمیر کی 56 فیصد آبادی کو متاثر کیا۔
اکتوبر 2005ء کا ہولناک زلزلہ کسی قیامتِ صغریٰ سے کم نہ تھا، اس سانحے نے ہزاروں خاندانوں کی زندگیاں بدل کر رکھ دیں، خیبر پختونخوا کے شمالی علاقے بالاکوٹ سمیت آزاد جموں و کشمیر کو بڑے پیمانے پر جانی و مالی نقصان کا سامنا کرنا پڑا۔
حکام کے مطابق وزیراعظم نے حکومتِ آزاد کشمیر کی درخواست پر جون 2026ء میں تعمیر نو کے لئے ایک ارب روپے فراہم کیے، جس سے زیرِ تعمیر 67 تعلیمی اداروں کے منصوبے دسمبر 2026 تک مکمل ہو جائیں گے۔
آزاد جموں و کشمیر میں اب بھی زلزلہ متاثرہ علاقوں میں تعمیر نو کے پروگرام کی تکمیل کے لئے 44 ارب روپے درکار ہیں۔
