
مصنف: ارشادالعصر جعفری
قسط:24
زاور نے سانس روک لی۔ وہ شخص بہت دور دکھائی دے رہا تھا، پھر وہ ایک قدم آگے آیا، دوسرا، تیسرا۔ چہرہ اب بھی نظر نہیں آ رہا تھا، مگر اس کے چلنے کا انداز زاور پہچانتا تھا --- وہی جھکاؤ، وہی قدم، وہی دایاں کندھا۔ وہ شخص زاور کی طرح چل رہا تھا۔ پھر اس نے اپنا سر اٹھایا اور آئینے کے اندر سے زاور کی طرف دیکھا۔ اس کے چہرے پر کوئی آنکھیں نہیں تھیں، صرف ایک ہموار، خاموش چہرہ، اور اس چہرے کے بیچ ایک باریک سی دراڑ نمودار ہوئی، جو آہستہ آہستہ پھیلتی گئی، جیسے چہرہ مسکرانے کے لیے کھل رہا ہو۔
زاور پیچھے ہٹ گیا۔ آئینہ فرش پر گر کر ٹوٹ گیا --- چھنااااک! تمام ٹکڑے بکھر گئے، مگر کسی ٹکڑے میں زاور کا عکس موجود نہیں تھا۔ صرف ایک ٹکڑے میں وہ دوسرا شخص اب بھی کھڑا تھا، اور اس بار وہ آئینے کے اندر نہیں تھا۔ وہ ٹوٹے ہوئے شیشے کے اس چھوٹے سے ٹکڑے کے عین سامنے کھڑا تھا۔
عبدالودود نے فوراً فائل بند کی۔ ”اب ہمیں یہاں سے نکلنا ہوگا۔“
سلمان نے کہا: ”دروازہ بند ہے۔“
عبدالودود نے پہلی بار عجیب اطمینان سے جواب دیا: ”نہیں، اب نہیں۔ اب دروازہ ہمیں خود باہر جانے دے گا۔“
اور جیسے ہی اس نے یہ کہا، بند دروازہ اندر کی طرف خود بخود کھل گیا۔ باہر راہداری خالی تھی، مگر فرش پر گیلے قدموں کے نشان موجود تھے۔ وہ نشان مردہ خانے سے باہر نہیں جا رہے تھے --- وہ اندر آ رہے تھے، اور ان کا آخری نشان بالکل زاور کے قدموں کے پاس آ کر رک گیا۔
زاور نے اپنے قدموں کے پاس پڑے آخری نشان کو دیکھا۔ وہ گیلا تھا، تازہ تھا، اور سب سے عجیب بات یہ تھی کہ اس کے اردگرد فرش بالکل خشک تھا۔ سلمان نے ٹارچ نیچے کی۔ ”یہ نشان۔۔۔“ وہ جھکنے لگا۔ عبدالودود نے فوراً روک دیا۔ ”ہاتھ مت لگانا۔“
”کیوں؟“
”کیونکہ یہ قدم کسی کے آنے کا ثبوت نہیں۔“ وہ چند لمحے اسے دیکھتا رہا۔ ”یہ کسی کے رکنے کا ثبوت ہے۔“
زاور نے اپنے پاؤں پیچھے کھینچ لیے۔ اب اسے ایک عجیب بات محسوس ہوئی --- وہ نشان اس کے جوتے کے بالکل سامنے ختم نہیں ہو رہا تھا، بلکہ وہ اس کے جوتے کی شکل میں ختم ہو رہا تھا، جیسے زمین پر کسی نے اس کے پاؤں کا نقش اتارا ہو۔
سلمان نے آہستہ سے کہا: ”یہ کیسے ممکن ہے؟“ عبدالودود نے جواب نہیں دیا، اس نے فائل دوبارہ کھولی۔ آخری صفحے پر موجود عبارت بدل چکی تھی، اب وہاں صرف ایک جملہ تھا:”چوتھا قدم اٹھاؤ۔“
زاور نے سر اٹھایا۔ ”چوتھا قدم؟“
عبدالودود نے فوراً کہا: ”نہیں، کسی صورت نہیں۔“
سلمان نے پوچھا:”کیوں؟“
بوڑھے نے فائل بند کر دی۔ ”کیونکہ پہلے تین قدم،“ اس نے راہداری کی طرف دیکھا،”اس نے اٹھائے ہیں۔ چوتھا تمہیں اٹھانا ہے۔“
زاور کے ذہن میں اچانک کچھ چمکا۔ اس نے اپنی جیب ٹٹولی --- کانسی کا سکہ اب وہاں نہیں تھا۔ ”سکہ۔۔۔“
سلمان نے چونک کر پوچھا: ”کیا ہوا؟“
(جاری ہے)
نوٹ: ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں
