
لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن)ہائی کورٹ کے ججوں کی تقرری سے متعلق جوڈیشل کمیشن آف پاکستان (جے سی پی) کی سمری پر صدر مملکت آصف علی زرداری کی جانب سے منظوری روکنے کے بعد، وفاقی حکومت نے اس معاملے پر آئینی تشریح کے لیے اعلیٰ عدلیہ سے رجوع کرنے پر غور شروع کر دیا ہے۔
ویب سائٹ پاک رپورٹ کے مطابق دی ایکسپریس ٹریبیون کو ذرائع نے بتایا ہے کہ حکومت اس مسئلے کا حتمی حل چاہتی ہے، اور اس کا موقف ہے کہ ججوں کی تقرری کے لیے صدارتی منظوری کوئی آئینی پیشگی شرط نہیں ہے، جیسا کہ سپریم کورٹ 2013 میں اس وقت کے صدر آصف علی زرداری کی جانب سے دائر کردہ صدارتی ریفرنس کے فیصلے میں پہلے ہی واضح کر چکی ہے۔ ذرائع کے مطابق، حکومت اب ایسا عدالتی اعلامیہ چاہتی ہے کہ اگر صدر سمری موصول ہونے کے 48 گھنٹوں کے اندر اس پر عمل نہیں کرتے، تو اسے ازخود منظور شدہ تصور کیا جائے۔ معلوم ہوا ہے کہ اگلے دو دن اس بات کا تعین کرنے میں اہم ہوں گے کہ آیا صدر سمری کی منظوری دیتے ہیں یا نہیں۔یہ بات ایکسپریس ٹربیون کے لیے حسنات ملک کی رپورٹ میں کہی گئی۔
