
تہران (ویب ڈیسک) امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ کے خاتمے کے معاہدے پر آج دستخط طے پائے ہیں تاہم اس معاہدے کے کچھ مخالفین نے عباس عراقچی اور محمد باقر قالیباف کے خلاف تہران میں مظاہرہ کیا ہے۔
بی بی سی کے مطابق یہ مظاہرہ تہران کے ابنِ سینا چوک میں منعقد ہوا جہاں مظاہرین نے ’شرم کرو عراقچی، ملک چھوڑ دو‘ اور ’قالیباف، عراقچی، ہمارے رہبر کے خون کا کیا ہوا؟‘ جیسے نعرے بھی لگائے۔اسی دوران گذشتہ شام مشہد میں درجنوں افراد نے وزارتِ خارجہ کی عمارت کے سامنے جمع ہو کر عباس عراقچی کے امریکہ کے ساتھ ممکنہ معاہدے سے متعلق بیانات کے خلاف احتجاج کیا۔
فارس نیوز ایجنسی کی جانب سے جاری ویڈیو کے مطابق مشہد میں مظاہرین نے عراقچی کے خلاف نعرے بازی بھی کی۔ معاہدے کے مخالفین کا خیال ہے کہ ایسا معاہدہ ایران کے مفاد میں نہیں اور تہران کو آبنائے ہرمز میں حاصل برتری کو کم کر دے گا۔ عراقچی نے ایک ٹی وی انٹرویو میں کہا تھا کہ معاہدے میں امریکہ کی جانب سے ایرانی بندرگاہوں کی بحری ناکہ بندی کا خاتمہ بھی شامل ہوگا۔ انھوں نے آبنائے ہرمز کو ایران کے بنیادی ہتھیاروں میں سے ایک قرار دیا۔
