
کراچی(ویب ڈیسک) ایف آئی اے کی مختلف آسامیوں کے لیے جاری فزیکل اور اینڈورنس ٹیسٹ کے دوران نقالی کا بڑا معاملہ سامنے آیا ہے جہاں ایس ایس یو پولیس ہیڈکوارٹر ملیر میں تین افراد کو جعلی شناخت کے ساتھ ٹیسٹ دینے کی کوشش کرتے ہوئے گرفتار کر لیا گیا۔
ترجمان ایف آئی اے کے مطابق ابتدائی دستاویزاتی جانچ کے دوران مشتبہ افراد کی شناخت پر شک ہوا جس کے بعد مزید تصدیق پر انکشاف ہوا کہ یہ افراد اصل امیدواروں کی جگہ امتحان میں شریک ہونے کی کوشش کر رہے تھے۔ایکسپریس کے مطابق گرفتار افراد میں بختیار ولد عالم، شمن علی ولد روشن اور امجد ولد محمد عرب شامل ہیں جو بالترتیب سہینو خان، ہادی بخش اور آفتاب احمد کے نام پر ٹیسٹ میں شرکت کر رہے تھے۔
ایف آئی اے حکام کے مطابق ملزمان نے مبینہ طور پر جعلسازی کے ذریعے سرکاری ملازمت حاصل کرنے کی کوشش کی تاہم بروقت کارروائی کے باعث ان کی کوشش ناکام بنا دی گئی۔ملزمان کے خلاف قانونی کارروائی کا آغاز کر دیا گیا ہے جبکہ معاملے کی مزید تفتیش جاری ہے تاکہ اس نیٹ ورک سے جڑے دیگر ممکنہ افراد کا بھی سراغ لگایا جا سکے۔
ترجمان کے مطابق ایف آئی اے بھرتی کے عمل میں شفافیت اور میرٹ کو یقینی بنانے کے لیے سخت نگرانی کر رہی ہے اور نقالی یا جعلسازی کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی پر عمل جاری ہے۔
