
لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن)لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس طارق سلیم شیخ کا کرپٹو کرنسی سے متعلق اہم فیصلہ، جس میں کرپٹو کرنسی کے ذریعے پِی ٹو پِی (P2P) لین دین سے متعلق ایک اہم مقدمے میں ملزمان کی قبل از گرفتاری ضمانتیں منظور کرتے ہوئے قرار دیا گیا ہے کہ صرف یہ حقیقت کہ کسی شخص نے آن لائن پلیٹ فارم کے ذریعے ورچوئل اثاثوں کا لین دین کیا یا اس کے بینک اکاؤنٹ میں رقم منتقل ہوئی، اسے ازخود دھوکہ دہی، جعلسازی یا الیکٹرانک فراڈ کا مرتکب قرار نہیں دیا جا سکتا۔
نجی ٹی وی چینل دنیا نیوز کےمطابق لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس طارق سلیم شیخ نے 15 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ جاری کیا۔
