میں اپنی بیٹیوں پر ناز کرتی ہوں۔ آج وہ 62 سالہ فلسفی زندہ ہوتا تو دیکھتا کہ میری ایک بیٹی خلاء میں پرواز کر چکی, میری بیٹیاں تخت و تاج کی مالک ہیں 

سافٹ ویئر Jul 10, 2026 IDOPRESS

مصنف:صادق حسین


قسط:15


عورت تو وہ پھول ہے، جس کے بغیر مرد کی زندگی کا چمن چمن نہ ہوتا بلکہ ایک ایسا ریگستان ہوتا جہاں لو کے تھپیڑوں، چلچلاتی دھوپ اور پیاس کے سوا کچھ نہ ہوتا۔ اس پھول کی پتیاں نازک مگر بڑی جاندار ہوتی ہیں۔ وہ کڑوا بول سُن مُرجھانے لگتی ہے مگر میٹھے بول پر کِھل اٹھتی ہے۔ اگر کوئی اس کی محبت کی امانت میں خیانت کرے تو وہ مجسم آگ بن کر ہر اُس شے کو جلا دیتی ہے جو اُس کی زد میں آ جائے۔ جب کوئی اس کے پیار کی غداری کرے تو وہ ایک زہریلی ناگن بن جاتی ہے۔


بچپن میں جب اُس کے پاؤں مجھ پر پڑتے ہیں تو میں نرمی اختیار کر لیتی ہوں۔ جب وہ جوان ہو جاتی ہے تو اس کے قدموں کے نیچے میرا ذرّہ ذرّہ تھرکنے لگتا ہے اور اس کے کورے بدن کو چھوتی ہوئی ہوائیں میرے اوپر ایک ایسی فضاء چھوڑ دیتی ہیں جس میں تازگی اور رعنائی، خیر اور صداقت کی مہک ہوتی ہے اور پھر ایک دن وہ اپنے ماں باپ کے گھر سے رخصت ہو جاتی ہے۔ اس دن اس گھر کے در و دیوار آنسو بہاتے ہیں۔ مجھے بھی ملال ہوتا ہے۔ اس لئے کہ اُس موڑ کے بعد عام طور پر اُسے دُکھ سہنے پڑتے ہیں۔ لیکن وہ اپنی دانش مندی سے کانٹوں سے بھی نباہ کر لیتی ہے اور پھر رفتہ رفتہ وہ اپنے نئے گھر کو گل و گلزار بنا دیتی ہے۔


عورت کسی روپ میں بھی ہو، اس نے مجھے کبھی مایوس نہیں کیا۔ جب معاشرہ اُس کی اوڑھنی تار تار کر کے اُسے چوراہے میں کھڑا کر دیتا ہے تو بھی وہ عورت ہی ہوتی ہے۔ اُس کے دل کے کسی نہ کسی گوشے میں لاج کی چاندنی ضرور ہوتی ہے۔ جب وہ بہک کر چمکیلے اندھیروں میں سانس لیتی ہے تو بھی وہ عورت ہی ہوتی ہے۔ جو سیاہ بادلوں تلے دب سکتی ہے مگر ایک نہ ایک دن ابھرتی ضرور ہے۔


میں اپنی بیٹیوں پر ناز کرتی ہوں۔ آج وہ باسٹھ سالہ فلسفی زندہ ہوتا تو دیکھتا کہ میری ایک بیٹی خلا میں پرواز کر چکی میری بیٹیاں تخت و تاج کی مالک ہیں۔ ان میں مدبر بھی ہیں اور عالم بھی وہ عدلیہ، انتظامیہ اور مقننہ میں اپنے فرائض نہایت خوش اسلوبی سے سرانجام دے رہی ہیں۔ وہ میدان جنگ میں مرنا بھی جانتی ہیں اور زخمیوں کی مرہم پٹی کرنا بھی اور جب مرد زندگی کی جدوجہد میں مایوس ہو جاتا ہے تو وہ اُمید کی ایک کرن بن کر پھر اسے نئی توانائی بخش دیتی ہے۔


لیکن اُس باسٹھ سالہ بوڑھے فلسفی کا خدا خاموش تھا وہ کہتا تھا کہ خدا تخلیق نہیں کرتا، بلکہ وہ صرف ایک محرک ہے۔ لیکن میری بیٹیاں خدا کی تخلیق ہیں اور خدا کی دی ہوئی زندگی کی حرارت سے نئی حرارت کو جنم دے کر زندگی میں نکھار اور حسن پیدا کرتی ہیں۔ میں اُن پر ناز کرتی ہوں۔


1980ء برس پہلے جب میرا جسم زخموں سے چُور چُور تھا تو ایک کھجور کی چھاؤں میں روشنی کا ظہور ہوا تھا۔ کھجور کا وہ درخت بیت المقدس سے 6 میل دُور بیت اللحم کے قریب باادب ایستادہ تھا۔ اس مبارک دن کو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی ولادت ہوئی تھی۔ اُس شیرخوار بچے نے ماں کی گود میں کلام کیا۔ وہ مکالمہ آج بھی فضاء میں محفوظ ہے۔ آوازوں کا وہ قافلہ جب میرے جسم کے کسی حصے کے اوپر سے گزرتا ہے تو اُس حصے کے بیمار ذرے شفایاب ہو جاتے ہیں۔(جاری ہے)


نوٹ: یہ کتاب ”بک ہوم“ نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوظ ہیں)ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

آل اسٹار ٹیکنالوجی آن لائن ٹیکنالوجی: ٹیک، AI، ایرو اسپیس، بایوٹیک، اور توانائی کی خبروں کے لیے آپ کا ذریعہ

آرین اسٹار ٹیکنالوجی، ایک ٹیکنالوجی نیوز پورٹل۔ ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت، بائیوٹیکنالوجی، ڈیٹا اور دیگر شعبوں میں تازہ ترین پیشرفت کی اطلاع دینے کے لیے وقف ہے۔
© ایرن اسٹار ٹیکنالوجی رازداری کی پالیسی ہم سے رابطہ کریں