2005ء میں سپر پارسل ایکسپریس ملیر پل عبور کرتے ہوئے حادثے کا شکار ہوئی، گنجائش سے زیادہ سامان بھر دیا گیا تھا، ویگن کا ایکسل ٹوٹا پل بھی تباہ ہوگیا

مصنف:محمدسعیدجاوید قسط:32613 جولائی 2005ء کو پاکستان کی تاریخ کا ایک اور ہولناک مگر عجیب و غریب حادثہ ہوا، مقام وہی یعنی گھوٹکی سندھ کا تھا۔ اچھی خاصی

سافٹ ویئر Dec 3, 2025 IDOPRESS

مصنف:محمدسعیدجاوید


قسط:326


13 جولائی 2005ء کو پاکستان کی تاریخ کا ایک اور ہولناک مگر عجیب و غریب حادثہ ہوا، مقام وہی یعنی گھوٹکی سندھ کا تھا۔ اچھی خاصی کوئٹہ ایکسپریس گھوٹکی کے اسٹیشن پر موجود تھی کہ پیچھے سے کراچی ایکسپریس سگنل کو نظر انداز کرتی ہوئی آئی اور پورے زور سے کوئٹہ ایکسپریس کو پیچھے سے ٹکر مار دی، جس سے اس کی کئی بوگیاں اْلٹ کر ساتھ والی اْس پٹری پر جا گریں جس پر ایک تیسری گاڑی تیزگام ایکسپریس آ رہی تھی جو اِن گری ہوئی بوگیوں سے ٹکرا گئی اورخود اس کے کئی ڈبے پٹری سے اْتر کر تباہ ہو گئے۔ محکمہ ریلوے یکے بعد دیگرے ہونے والے ان حادثوں، اموات کی اصل تعداد تو چھپا گیا لیکن کہنے والے کہتے ہیں کہ یہ 500 سے زیادہ لوگ تھے۔ یاد رہے کہ ان تینوں گاڑیوں میں کل 3000 سے زیادہ مسافرسوار تھے۔اور غالباً یہ دنیا میں اپنی نوعیت کا پہلا حادثہ تھا جس میں ایک ہی حادثے میں بیک وقت 3گاڑیاں آپس میں ٹکرائی تھیں۔


اگست 2005ء میں سپر پارسل ایکسپریس لانڈھی کے قریب ملیر پل کو عبور کرتے ہوئے حادثے کا شکار ہوئی اور اس کی درجن بھر بوگیاں نیچے جا گریں۔ اطلاعات ہیں کہ مال گاڑی میں گنجائش سے زیادہ سامان بھر دیا گیا تھا، جس سے ایک ویگن کا ایکسل ٹوٹ گیا اور گاڑی پل پر سے نیچے جا گری جس سے پل بھی تباہ ہوگیا اور اس کے بعد گاڑیوں کی آمد و رفت کئی ہفتوں تک معطل رہی اور ہنگامی حالت میں یہاں نیا پل تعمیر کیا گیا۔


اگست 2006ء میں رات کے وقت جہلم کے قریب ڈومیلی کے مقام پر ایکسپریس گاڑی کے چار ڈبے یکلخت پٹری سے اْتر کر 50 فٹ گہری کھائی میں جا گرے۔ قدرتی بات ہے کہ اس میں بھی بہت ساری جانیں ضائع ہوئی ہوں گی۔ لیکن نامعلوم وجوہات کی بنیاد پر اس حادثے میں جانی نقصان کے بارے میں آج تک صحیح طور پر علم نہ ہو سکا۔ لیکن حادثے کی نوعیت بتاتی ہے کہ بہت سے لوگ جان سے ہاتھ دھو بیٹھے ہوں گے۔


دسمبر 2007ء میں محراب پورسندھ میں ایک اور تیز رفتار گاڑی پٹری سے اْتری اور اس کی 16میں سے 14 بوگیاں اْلٹ کر نیچے گر گئیں جن میں سے کچھ تو زمین پر اور کچھ پانی میں گئیں۔ یہاں بھی50سے زیادہ لوگ اللہ کو پیارے ہوئے۔


جولائی 2013ء میں گوجرانوالہ کے قریب گاڑی کے ایک بغیر پھاٹک والے لیول کراسنگ پر پٹری عبور کرتے ہوئے ایک رکشا، گاڑی کی زد میں آ گیا۔ مرنے والوں میں ایک ہی خاندان کے 14 لوگ بھی لقمۂ اجل بن گئے۔


جولائی 2015ء میں گوجرانوالہ کےنزدیک فوج کی ایک خصوصی گاڑی ایک بڑی نہر کے پل پر سے گزرتی ہوئی پٹری سے اْتری اور نیچے پانی میں جا گری، اس میں 19فوجیوں کی شہادت ہوئی۔ کہتے ہیں کہ پْل پر مرمت کا کام جاری تھا اور اسٹیشن ماسٹر اور مرمت کرنے والے عملے کے بیچ رابطہ نہ ہونے کی وجہ سے پٹری کو بروقت بند کرنے کی اطلاع نہ دی جا سکی، اور یوں پٹری کے نٹ بولٹ کھلے ہوئے ہونے کی وجہ سے یہ جان لیوا حادثہ پیش آیا۔


(جاری ہے)


نوٹ: یہ کتاب ”بک ہوم“ نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوظ ہیں)ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

آل اسٹار ٹیکنالوجی آن لائن ٹیکنالوجی: ٹیک، AI، ایرو اسپیس، بایوٹیک، اور توانائی کی خبروں کے لیے آپ کا ذریعہ

آرین اسٹار ٹیکنالوجی، ایک ٹیکنالوجی نیوز پورٹل۔ ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت، بائیوٹیکنالوجی، ڈیٹا اور دیگر شعبوں میں تازہ ترین پیشرفت کی اطلاع دینے کے لیے وقف ہے۔
© ایرن اسٹار ٹیکنالوجی رازداری کی پالیسی ہم سے رابطہ کریں