
جدہ(ڈیلی پاکستان آن لائن)سعودی عرب میں امریکی سفارت خانے نے یہاں آنے والے امریکی شہریوں کو محتاط رہنے کی ہدایت کی ہے۔
بی بی سی اردو کے مطابق سفری ہدایات جاری کرتے ہوئے سفارت خانے کا کہنا ہے کہ ’ایرانی ڈرون اور میزائل حملوں سے امریکی مفادات کو لاحق خطرات، مسلح تنازعات، دہشت گردی، ملک سے باہر جانے پر عائد کی جانے والی پابندیوں اور سوشل میڈیا سرگرمیوں سے متعلق مقامی قوانین کے باعث‘ یہاں آنے کے خواہش مند امریکی شہری اپنے ارادوں پر ’دوبارہ غور کریں۔‘
سفری ہدایت میں کہا گیا ہے کہ سعودی عرب کے بعض علاقوں میں خطرات کی سطح نسبتاً زیادہ ہے، خاص طور پر یمن کی سرحد کی طرف بالکل سفر نہ کیا جائے کیوں کہ وہاں دہشت گردی کا خطرہ ہے۔
واضح رہے کہ یمن میں ایران کے حمایت یافتہ حوثیوں اور سعودی حمایت یافتہ یمنی حکومتی فورسز کے درمیان لڑائی شدت اختیار کر چکی ہے۔
حوثیوں نے بحیرہ احمر کے مغربی ساحلی علاقے اور آبنائے باب المندب کا کنٹرول حاصل کر لیا ہے اور سعودی عرب کی بحری ناکہ بندی کر رکھی ہے۔
حوثیوں کی جانب سے سعودی عرب کے متعدد مقامات پر حملے کرنے کے دعوے بھی کیے گئے ہیں اور آج یمن میں بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ حکومت کے لیے قائم عسکری اتحاد کے ترجمان میجر جنرل ترکی المالکی کا یہ دعویٰ بھی سامنے آیا ہے کہ حوثیوں نے مکہ کی طرف ڈرون داغا جسے شہر کی فضائی حدود میں داخل ہونے سے پہلے روک کر تباہ کر دیا گیا۔
