
مصنف:اللہ دتہ نجمی
قسط:4
آپ تاریخی حقائق کی زنبیل میں دفن معلومات کو لفظوں کی مالا میں پروکر یوں سامنے لاتے ہیں کہ قاری اش اش کر اٹھتا ہے۔ آپ سادگی و سلاست کے باوجود نہایت چابکدستی اور مہارت سے جہل پرور شخصیات کے پجاری معاشرے قوم کی حالت زار اور پیش آمدہ حالات کی گمبھیر تا کا درد مندی سے تجزیہ کر کے نہ صرف اپنی حالت بدلنے کی دعوت دیتے ہیں بلکہ مشکلات سے نکلنے کی راہ بھی بتلاتے ہیں۔ ان کے کالم محض کالم برائے کالم نہیں۔ آپ اشرافیہ کی منافقت، قول و فعل کے تضاد، مفادات و ہوس زر، نچلے طبقے کی بے بسی، ناقابل بیان احساسات، مشکلات اور پرنم آنکھوں کی نمی کو اپنی فکر انگیز تحریروں میں سموتے ہیں۔ یہ حزن و ملال ان کی تحریروں میں روتا، چیختا، چنگھاڑتا اور قاری سے باقاعدہ باتیں کرتا ہے۔ انہوں نے تہذیب حاضر کی قباحتوں، نام نہاد روشن خیالی و بے لگام آزادی کی آلائشوں کے نوجوان نسل پر پڑنے والے مضر اثرات کو مصلحتوں و مجبوریوں کے حصار میں مقید ہوئے بغیر بیان کیا ہے۔ ان کی تحریریں متحرک تخلیقی صلاحیتوں، عمیق مشاہدے اور وطن سے قلبی تعلق کی شہادت دیتی ہیں۔ ان کا اسلوب تحریر مختلف رنگوں میں رنگا ہے کہیں عالمانہ ہے، کہیں خطیبانہ، کہیں تجزیاتی طرز فکر کی کارفرمائی دکھائی دیتی ہے اور کہیں مشاہداتی بو قلمونیاں۔ حکمت جو مومن کی گم گشتہ متاع ہے ان کے اظہاریے کی رگِ جاں ہے، الغرض انہیں اپنے خیالات کے اظہار کا ڈھنگ خوب آتا ہے۔ اپنی ذہانت، فطانت، ندرت فکر اور بذلہ سنجی سے انہوں نے قاری کو اپنی طرف مائل کیا ہے۔ موضوع کتنا ہی فکر انگیز کیوں نہ ہو وہ اسے نبھانے کا فن بخوبی جانتے ہیں۔ اردو زبان جو آہستہ آہستہ رو بہ زوال ہے ان کے کالموں میں کوثر تسنیم سے دھلی دکھائی دیتی ہے۔ اے ڈی نجمی کے کالم اگر چہ طویل ہوتے ہیں (جونو جوان نسل کے لیے پڑھنا سوہان روح ہیں، کیونکہ شارٹ کٹ کی عادی یہ نسل گھنٹوں موبائل پر تو ضائع کر دیتی ہے لیکن کتاب اور کالم پڑھنے سے ان کی جان جاتی ہے، اس لیے میرا مشورہ ہے کہ کالم میں اختصار و جامعیت کا راستہ اپنایا جائے) مگر ایک بار پڑھنا شروع کر دیا جائے تو اختتام کے بغیر ذہنی سکون حاصل نہیں ہوتا۔ ”خوش بیانیاں“ میں موجود کالموں میں لسانی تجربات، منفرد موضوعات اور پر مغز خیالات غور و فکر کی تہیں کھولتے اور انسانی سوچ کو بدلنے کا ہنر رکھتے ہیں۔ مجھے امید ہے معاشرے میں روشنی پھیلانے کا جو بیڑا انہوں نے اٹھایا ہے وہ ضرور ثمر بار ہو گا۔
ڈاکٹر قمر غزنوی
باقی سب خیریت ہے
سرکار کا ملازم ہونے کی بنا ءپر ساری زندگی اُس کی دفتری زبان میں لکھی چٹھیاں پڑھنے اور اُن کا جواب دینے میں ہی گزر گئی۔ کبھی قومی زبان میں بھی لکھا کروں گا، میری تحریریں سوشل میڈیا پر پسند کی جایا کریں گی، روزنامہ نوائے وقت میں کالموں کی شکل میں شائع ہوں گی اور میرے دوست مجھ سے یہ تحریریں ایک کتابی شکل میں ترتیب دینے کا تقاضا کریں گے، ایسا کبھی میں نے خواب میں بھی نہیں سوچا تھا حالانکہ نیند سے بلا کی رغبت ہونے کی وجہ سے میری عمر کا بیشتر حصہ اُس کی نرم و گداز آغوش میں مختلف انواع کے ایک سے بڑھ کر ایک خواب دیکھنے میں ہی گزرا ہے۔ ( جاری ہے )
نوٹ: یہ کتاب ”بک ہوم “ نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوظ ہیں )ادارے کا مصنف کی آراءسے متفق ہونا ضروری نہیں ۔
