کسی دوستی، تعلق کا سہارا نہیں لیا، اجلاس کے بعد ہر کوئی مجھ سے سوال کر رہا تھا،واپس لاہور جاکر اندازہ ہوا کہ بار میں یہ خبر جنگل کی آگ کی طرح پھیل چکی تھی

مصنف:رانا امیر احمد خاں قسط:374 اجلاس کے بعد ہر کوئی مجھ سے اس ضمن میں سوال کر رہا تھا۔ واپس لاہور جاکر مجھے اندازہ ہوا کہ بار میں یہ خبر جنگل کی آگ

توانائی Apr 23, 2026 IDOPRESS

مصنف:رانا امیر احمد خاں


قسط:374


اجلاس کے بعد ہر کوئی مجھ سے اس ضمن میں سوال کر رہا تھا۔ واپس لاہور جاکر مجھے اندازہ ہوا کہ بار میں یہ خبر جنگل کی آگ کی طرح پھیل چکی تھی۔ وکلاء بار کے اذہان میں یہ بات سما گئی تھی کہ راناامیر کو اسسٹنٹ ایڈووکیٹ جنرل پنجاب بنوانے میں بھی شاید جنرل پرویزمشرف کے بڑے بھائی جاوید مشرف کا ہاتھ تھا جس میں قطعاً کوئی صداقت نہ تھی کیونکہ جسٹس (ر) اعظم خاں صدر مسلم لیگ لائیرز ونگ پاکستان و عالمگیر ایڈووکیٹ صدر پنجاب کی جانب سے سفارش کردہ مسلم لیگی وکیلوں کی فہرست میں میرا نام پہلے نمبر پر تھا اور واحد مسلم لیگی ایڈووکیٹ سپریم کورٹ ہونے کے باعث مجھے میرٹ پر ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل کے عہدہ پر تعیناتی کے لیے نامزد کیا گیا تھا جس کے مطابق میری تعیناتی بھی بطور ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل ہو گئی تھی۔ اخبارات میں خبر بھی لگ گئی تھی لیکن اس وقت کے چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ محمد افتخار حسین چودھری کی فوری مداخلت پر میری تعیناتی ایڈیشنل کی بجائے بطور اسسٹنٹ ایڈووکیٹ جنرل پنجاب کی گئی کیونکہ مجھے ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل تعینات کرنے کے لیے ان کے ایک وکیل دوست کو اس عہدہ سے فارغ کر دیا گیا تھا۔


جنرل مشرف فیملی کے ساتھ میرے دیرینہ تعلقات کی طویل داستان جو میں نے رقم کی ہے جسے مجھے اپنی آپ بیتی میں تحریر کرنے کی قطعاً ضرورت نہ تھی اگر جنرل مشرف مسلم لیگی وکیلوں سے ملاقات میں اس تعلق کا برسرِعام اعلان نہ کرتے۔ یہاں یہ تمام تفصیل تحریر میں لانا اس لیے بھی ضروری ہو گیا ہے کہ چاروں صوبوں سے آئے ہوئے مسلم لیگ لائیرز ونگ کے عہدیداران کے بھرے اجلاس میں جنرل پرویز مشرف کی جانب سے اپنے بڑے بھائی جاوید مشرف کے ساتھ میری دیرینہ دوستی کا اعلان کر دینے کے بعد لاہور ہائی کورٹ بار میں حامد خاں اور شاہد محمود بھٹی جیسے بار لیڈروں کی جانب سے غلط طور پر مجھے مارشل لاء اور جنرل مشرف کا حامی قرار دینے کی کاوش کی گئی،اسی طرح فوجی حکومت کے خلاف نعرہ لگانے والے ہمارے بار کے کچھ نمائندوں نے ظفر علی شاہ کیس کے فیصلے کے حوالے سے بلاجواز اور بے بنیاد تبصرے کرتے ہوئے حقائق کو مسخ کیااور اس وقت کے چیف جسٹس پاکستان ارشاد حسن خاں پر بلاسوچے سمجھے تنقید کی گئی۔ حامد خاں نے اپنی کتاب میں بھی سپریم کورٹ کے 12 رکنی لارجر بنچ کے اس متفقہ فیصلے کو بلاوجہ ہدف تنقید بنایا۔ حالانکہ میری رائے میں ظفر علی شاہ کیس کا فیصلہ ایک بصیرت افروز اور تاریخ ساز فیصلہ تھا جس نے جنرل مشرف کے فوجی اقتدار کو 3 سالوں اکتوبر 2002 ء تک محدود کر دیا۔ جنرل مشرف کو 2002 ء میں عام انتخابات کروا کے جمہوریت بحال کرنی پڑی۔ ورنہ جنرل ایوب خان اور جنرل ضیاء الحق کے دس گیارہ سالوں پر محیط مارشل لاؤں کی طرح جنرل مشرف کا فوجی اقتدار بھی طویل تر ہو سکتا تھا۔ میں نے خود 1997ء میں مسلم لیگ (ن) سے کناراکشی کرنے کے بعد مسلم لیگ (ق میں کام کا آغاز ظفر علی شاہ کیس کا فیصلہ ہونے کے بعد 2002 ء میں کیا کہ جب جمہوریت بحال ہو گئی تھی۔


جنرل پرویز مشرف کے دور میں میرا اسسٹنٹ ایڈووکیٹ جنرل بننا بطور ایڈووکیٹ سپریم میرا آئینی استحقاق تھا جس کے لیے میں نے کسی دوستی، تعلق کا سہارا نہیں لیا۔ یہ عہدہ مجھے میری مسلم لیگ کے ساتھ زندگی بھر کی وابستگی اور تحریک نجات و دیگر مواقع پر میری اعلیٰ کارکردگی کے باعث بغیر میرے کہے سنے اس وقت کے مرکزی صدر پاکستان مسلم لیگ لائیرز ونگ (ق) ریٹائرڈ جسٹس اعظم خاں اور صوبائی صدر و نیک نام ہردل عزیز ایڈووکیٹ عالمگیر کی متفقہ سفارشات پر دیا گیا۔ میرے ساتھ اس عہدہ پر دیگرکئی مسلم لیگی وکیلوں کو بھی تعینات کیا گیا۔ ہم سب کی تعیناتی میں اگر کوئی عمل دخل تھا تو وہ صرف صوبائی وزیر قانون راجہ بشارت اور سب سے بڑھ کر صوبائی وزیر اعلیٰ پنجاب چودھری پرویزالٰہی کا تھا۔ مذکورہ دونوں مسلم لیگی قائدین سے میرا کوئی ذاتی تعلق نہ تھا سوائے اس کے وہ مجھے مسلم لیگی وکیل کے طور پر پہچانتے تھے۔ مجھے خوشی ہے کہ انہوں نے مسلم لیگی کارکنوں کے ضمن میں میرٹ پر فیصلے کئے۔


(جاری ہے)


نوٹ: یہ کتاب ”بک ہوم“ نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوظ ہیں)ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

آل اسٹار ٹیکنالوجی آن لائن ٹیکنالوجی: ٹیک، AI، ایرو اسپیس، بایوٹیک، اور توانائی کی خبروں کے لیے آپ کا ذریعہ

آرین اسٹار ٹیکنالوجی، ایک ٹیکنالوجی نیوز پورٹل۔ ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت، بائیوٹیکنالوجی، ڈیٹا اور دیگر شعبوں میں تازہ ترین پیشرفت کی اطلاع دینے کے لیے وقف ہے۔
© ایرن اسٹار ٹیکنالوجی رازداری کی پالیسی ہم سے رابطہ کریں