
کراکس(ویب ڈیسک)وینزویلا میں یکے بعد دیگرے زلزلے کے شدید جھٹکے محسوس کئے گئے ہیں جن میں 32افراد ہلاک جبکہ 700زخمی ہیں،زلزلے سے متعدد عمارتیں زمین بوس ہو گئیں جس کے ملبے تلے ہزاروں افراد کے دبے ہونے کا خدشہ ہے، ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ ظاہر کیا جارہا ہے۔
قائم مقام صدر وینزویلا ڈیلسی روڈریگزنے زلزلے کو سانحہ قرار دیدیا،ان کاکہناتھا کہ لاگویراشہر میں زلزلے سے کئی عمارتیں تباہ ہو گئیں۔
وینزویلا میں ایک منٹ سے بھی کم وقفے میں آنے والے 7.2 اور 7٫5 شدت کے زلزلوں کے بعد حکومت نے ملک میں ایمرجنسی نافذ کر دی ہے۔ تاحال ان زلزلوں کے نتیجے میں ہونے والی ہلاکتوں اور نقصانات کا اندازہ نہیں لگایا جا سکا ہے تاہم امریکی جیولوجیکل سروے کے مطابق دوسرے زلزلے کے بعد 44 فیصد امکان ہے کہ ہلاکتوں کی تعداد 10,000 سے زائد ہو سکتی ہے۔
روڈریگز نے ڈاکٹروں اور نرسوں سے اپیل کی ہے کہ وہ فوری طور پر طبی مراکز پہنچیں۔
کیراکس میں موجود صحافی کولسٹر نے بی بی سی منڈو کو بتایا کہ یہ ان کی زندگی کا سب سے شدید زلزلہ تھا۔ ’یہ اتنا شدید تھا کہ مجھے لگا کہ عمارت میرے اوپر گر جائے گی۔‘
وینزویلا کی قائم مقام صدر ڈیلسی روڈریگز نے قومی ٹیلی وژن پر خطاب کرتے ہوئے تصدیق کی ہے کہ زلزلے کے نتیجے میں ایئرپورٹ کے ترمینل کو شدید نقصان پہنچا ہے جس کے بعد اسے بند کر دیا گیا ہے۔
