
مصنف:شہزاد احمد حمید
قسط:540
شہباز کراے کے گھر میں چلا گیا اور بہنوئی ندیم کے ساتھ مل کر کنسٹرکشن کا کاروبا کرنے لگا۔ یہ کام اچھا چل رہا ہے۔ ان نے شادی نہیں کی آزاد ہے نہ کوئی ذمہ داری نہ کو ئی فکر نہ فاقہ۔شاہد جس نے لڑائی جھگڑا کرکے آ بائی گھر بکوایا تھا آج بھی معاشی طور پر مشکل میں ہے۔اس نے بحریہ ٹاؤن میں دس مرلے کا گھر بنایا، ایم سی بی کی ملازمت(جو ابا جی نے میرے دوست آغا سعید سے کہہ کر دلوائی تھی)سے ہمیں بتائے بغیر استعفیٰ دیا، گھر بنانے والے ٹھیکیدار کے ساتھ دھوکا کیا، نقصان اٹھا یا، پریشانی اٹھائی، باپ اور بھائیوں کی رسوائی کرائی۔ آخر باپ نے دوبارہ سعید خاں (میرے بچپن کا دوست۔ مخلص انسان۔ اللہ نے اسے بڑا عہدہ دیا لیکن اس میں کوئی تکبر نہ آیا۔ ویسا ہی یار رہا جیسا بچپن میں تھا۔ ایم سی بی کے ایک شعبے کا ہیڈ تھا۔) کو کہہ کر ایم سی بی میں دوبارہ نوکری دلوائی۔ باپ نے اس کی گستاخیوں کے باوجود معاف کر دیا اور ہم سب نے بھی۔ باپ مرتے وقت حکم دے گیا کہ اسے اکیلے نہ چھوڑ دینا۔ ہم اپنا فرض نبھا رہے ہیں۔ اللہ اُس کے لئے آ سانیاں پیدا کرے۔آمین۔ ماں باپ سے کی گئی گستاخیاں عمر بھر کے پچھتاوے ہو تے ہیں۔
دل میں سٹنٹ؛
2اگست 2019ء کو میرے والد کی پہلی برسی تھی۔ میں کچھ سامان خریدنے اشرف ڈرائیور کے ساتھ بازار گیا۔ راستے میں مجھے سینے میں شدید درد اٹھا۔ ایسا ہی درد ایک دن پہلے والک کرتے وقت بھی ہوا تھا۔ میں نے اسے ”ایسڈیٹی“ سمجھا اور ہاضمے کی دوائی پی تو مجھے افاقہ محسوس ہوا۔ برسی والے روزاپنی سالی لبنیٰ کے گھر سے سپارے لئے تو سینے میں درد تب بھی تھا۔ جیپ خود ہی چلا رہا تھاکہ درد کی شدت سے سٹیرنگ پر ہی گر گیا۔ ماتھا پسینہ سے بھر گیا۔ خیر گھر آ یا۔ درد میں کوئی آفاقہ نہ ہوا۔ عظمیٰ نے احمد کو بلایا وہ مجھے سی ایم ایچ لے گیا۔ ایمر جنسی میں کچھ ٹیسٹ کئے، ای سی جی ہوئی سبھی نارمل تھا۔ انہوں نے مجھے نارمل ٹریٹ کیا اور شام کو ڈاکٹر کو دکھانے کا مشورہ دیا۔ خیر گھر آ گئے۔ برسی کی دعا میں شرکت کی۔ مہمان جانے لگے تو بھائی جان پاشا نے کہا؛”دل کی تکلیف ایسی ہی ہوتی ہے۔ اسے لائیٹ مت لینا۔“ خیر رات 9 بجے احمد اور اس کا ماموں زاد ابو تراب مجھے پی آئی سی لے آئے۔ جہاں رات قیام کے بعداگلے روز میرے دل میں دو سٹنٹ ڈال دئیے گئے۔ وہ دل جس پر مجھے ہمیشہ مان تھا دغا دینے لگا تھا لیکن اللہ نے کرم کر دیا تھا۔ سٹنٹ ڈالے جا رہے تھے تو میری نگاہوں میں عظمیٰ کی تصویر تھی کہ مجھے کچھ ہوا تو وہ اکیلی رہ جائے گی۔ عمر اور احمد کا کیا ہوا گا۔ شاید اللہ نے مجھے ان کی خدمت اور خیال کا ایک موقع اور دینا تھا۔ یقینا عظمیٰ بھی گھر میں پریشان دعائیں کر رہی تھی۔ میاں بیوی کا بھی کمال رشتہ ہے جتنا بھی لڑ لو پیار بڑھتا ہی ہے۔
دو راتیں ہسپتال رہا جہاں میرے دونوں چھوٹے بھائی شہباز اور شاہد میرے ساتھ تھے۔تیسرے دن دوپہر سے پہلے چھٹی ملی، گھر آ گیا۔ دوستوں، عزیزوں اور بہن بھائیوں نے خوب تیمارداری کی۔ سیکرٹری بلدیات احمد جاوید نے پھولوں کا گلدستہ اور نیک تمناؤں کا کارڈ بھجوایا۔اللہ سب کو خوش اور اپنی امان میں رکھے۔ آمین۔صحت سے زیادہ قیمتی چیز دنیا میں اور کوئی نہیں۔دوبارہ دفتر جانے لگا تو میری سروس پوری ہونے میں تین ماہ کا سفر باقی رہ گیا تھا۔اس مشکل وقت میں میرے پھو پھی زاد بھائی جان قیس نے میرا بڑا خیال کیا۔ وہ خاندان کے بڑے ہیں اور انہوں نے بڑا بن کر دکھا یا بھی۔ سلامت رہیں بھائی جان۔
ملک طارق کی بے عزتی؛
ملک طارق ڈی ڈی ایل جی قصور تھا۔ تابعدار، طرار مگر سمجھ دار۔ ایک بار اس کی شکایت سیکرٹری لوکل گورنمنٹ سے ہوتی ڈی جی بلدیات پنجاب تک پہنچ گئی۔راشد الرحمان ڈی جی تھے۔ انہوں نے مجھے بلا کر میری موجودگی میں جو اس کی کر دی ایسی شاید ہی کسی کے ساتھ ہوئی ہو۔ وہ ایسی بے عزتی اور سخت باتیں اس لئے برداشت کر گیا کہ شکایت سچی تھی۔ عزت دار کہاں کسی کی سنتا ہے۔زندگی میں سب سے قیمتی شے عزت ہی تو ہوتی ہے۔پیسے کو کیا کرنا بھائی۔ (جاری ہے)
نوٹ: یہ کتاب ”بک ہوم“ نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوظ ہیں)ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔
