پاکستان ماضی قریب میں چینی سولر پینلز کا دنیا کا سب سے بڑا درآمد کرنے والا ملک بن گیا

چپ ٹیک May 26, 2026 IDOPRESS

اسلام آباد (ویب ڈیسک) بجلی کی قیمتو ں میں بے تحاشا اضافے کے بعد پاکستان ماضی قریب میں چینی سولر پینلز کا دنیا کا سب سے بڑا درآمد کرنے والا ملک بن گیا۔


جرمن میڈیا کے مطابق کراچی کے مختلف علاقوں میں لگے پینلز میں سے زیادہ تر چین سے درآمد کئے گئے اور ان سب کا مقصد ایک ہی تھاکہ لوڈ شیڈنگ اور مہنگی بجلی سے نجات۔ سنہ2021 سے2024 کے درمیان بجلی کے نرخوں میں155 فیصد اضافہ ہوا جس نے عام لوگوں کے لیے بجلی تقریباً نا قابل برداشت بنا دی۔ دوسری طرف سولر پینل سستے ہوتے گئے۔ دو ہزار چوبیس تک پاکستان چینی سولر پینلز کا دنیا کا سب سے بڑا درآمدکنندہ بن گیا اور پھر ایران جنگ نے پاکستان میں بھی توانائی کے نظام پر مزید دباؤ ڈال دیا۔


پاکستان میں بجلی کی پیداوار کے لیے ایل این جی ایک اہم ذریعہ ہے جبکہ لوگ کافی عرصے سے لوڈ شیڈنگ کے دوران ڈیزل جنریٹر استعمال کرتے آئے ہیں لیکن اب پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافے سے جنریٹر کا خرچ فوراً بڑھ گیا اور چونکہ قومی گرڈ کا بڑا حصہ ایل این جی پر چلتا ہے، جنگ کے بعد لوڈ شیڈنگ میں بھی اضافہ ہو گیا۔


ماہرین کے مطابق بجلی کے بل میں قیمتیں مزید بڑھ سکتی ہیں، لیکن وہ لوگ جو پہلے ہی سولر پر منتقل ہو چکے ہیں، ان پر اس کا اثر کم پڑا ہے۔ اگرچہ زیادہ تر امیر طبقہ سولر کی طرف گیا ہے، لیکن کچھ متوسط اور کم امدنی والے گھرانوں نے بھی بچت کر کے یہ قدم اٹھایا ہے لیکن ہر کوئی بجلی کے لیے سولر پینلز نہیں لگا سکتا۔ بلڈنگ میں رہنے والے کا ایک نقصان یہ ہے کہ وہ سولر نہیں لگا سکتا، سولر انرجی استعمال کرنے اور نہ کرنے والوں کے درمیان یہ فرق بلوچستان میں اور بھی واضح ہے۔ یہاں تقریباً نوے فیصد دیہات اب بھی قومی گرڈ سے نہیں جڑے۔ سولر توانائی کے لیے ماحول تو نہایت سازگار ہے، لیکن یہاں بہت ہی کم لوگ اپنے نجی سولر سسٹم چلا رہے ہیں۔


رپورٹ کے مطابق حکومت نے صرف ٹیکس ہی نہیں لگایا بلکہ سولر بجلی واپس گریڈ کو بیچنے کی قیمت بھی ساٹھ فیصد کم کر دی ہے۔ یعنی جو لوگ اضافی سولر توانائی واپس فروخت کرتے تھے، انہیں اس کی بہت کم قیمت ملے گی۔ اسی کے ساتھ چین سے درامد ہونے والی بیٹریز پر بھی ٹیکس بڑھا دیا گیا ہے، حالانکہ یہی بیٹریاں بجلی ذخیرہ کرنے کے لیے ضروری ہیں۔ حکومت کا موقف ہے کہ وہ عام صارفین کو بڑھتی ہوئی قیمتوں سے بچا رہی ہے، مگر ناقدین کہتے ہیں کہ اصل میں بجلی کمپنیوں کو فائدہ پہنچایا جا رہا ہے۔ چونکہ ہم خود سولر پینلز یا بیٹریاں نہیں بناتے، ہمیں انہیں درامد کرنا پڑے گا۔ ہمارے پاس ڈالرز بھی نہیں ہیں۔ اگر حکومت ٹیکس کم کرے اور سولر کو فروغ دے تو بجٹ پر دباؤ بڑھے گا۔ یہ ایک توازن ہے جسے حکومت کو سنبھالنا ہو گا۔

آل اسٹار ٹیکنالوجی آن لائن ٹیکنالوجی: ٹیک، AI، ایرو اسپیس، بایوٹیک، اور توانائی کی خبروں کے لیے آپ کا ذریعہ

آرین اسٹار ٹیکنالوجی، ایک ٹیکنالوجی نیوز پورٹل۔ ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت، بائیوٹیکنالوجی، ڈیٹا اور دیگر شعبوں میں تازہ ترین پیشرفت کی اطلاع دینے کے لیے وقف ہے۔
© ایرن اسٹار ٹیکنالوجی رازداری کی پالیسی ہم سے رابطہ کریں