
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی احسن اقبال نے جمعرات کو جماعت اسلامی کے کسی بھی دبائو کے تحت پٹرولیم لیوی کی شرح میں فوری کمی کے امکان کو مسترد کر دیا، تاہم انھوں نے کہا کہ حکومت اگلے بجٹ سے شرحوں میں تدریجی کمی پر غور کرے گی۔
نجی ٹی وی چینل ایکسپریس نیوز کے مطابق دوسری طرف وزیر پٹرولیم علی پرویز نے قومی اسمبلی کو آگاہ کیا کہ پیٹرولیم لیوی کی وصولی بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کے اہداف کا حصہ تھی اور حکومت نے مالی سال 2022-23سے اس مد میں 4.4 کھرب روپے اکٹھے کیے ہیں۔ چار سالہ وصولی حکومت کے اپنے اہداف سے 227 ارب روپے زیادہ تھی۔
گزشتہ مالی سال کے دوران 1.468 کھرب روپے کے ہدف کے مقابلے میں اصل عبوری وصولی 1.567 کھرب روپے رہی۔ جاری مالی سال کے لیے پیٹرولیم لیوی کا بجٹ تخمینہ 1.676 کھرب روپے ہے۔
پرائس ڈفرینشل کلیمز کی مد میں آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کی زیر التوا ادائیگیوں کے بارے میں ایک سوال کے جواب میں وزیر نے کہا کہ 66.5 ارب روپے کے بل ابھی بھی بقایا ہیں۔
