
انقرہ (ڈیلی پاکستان آن لائن)ترکی میں امریکہ کے سفیر اور ڈونلڈ ٹرمپ کے شام اور عراق کے لیے خصوصی نمائندے ٹام باراک کا کہنا ہے کہ واشنگٹن اور تہران فوجی کشیدگی میں کمی سے متعلق ایک معاہدے تک پہنچنے کے بہت قریب ہیں۔
بی بی سی اردو کے مطابق باراک نے جمعرات کو دوحہ میں سی این این سے گفتگو کرتے ہوئے امید ظاہر کی کہ آئندہ دو ہفتوں کے دوران کشیدگی کم کرنے اور فوجی جھڑپوں کو روکنے کے لیے اہم اقدامات کیے جائیں گے۔
انھوں نے کہا، ’ہم بہت قریب پہنچ چکے ہیں، اتنے قریب کہ یہ کہہ سکیں کہ آئیے ایک وقفہ لیں اور کشیدگی کی شدت کم کریں‘۔
باراک نے قطر، پاکستان اور امریکہ کے دیگر اتحادیوں کی سفارتی کوششوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ان ممالک نے تہران اور واشنگٹن کے درمیان سیاسی عمل پر اتفاق رائے پیدا کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔
انھوں نے زور دیا کہ فوری طور پر ایک جامع معاہدہ ممکن نہیں، تاہم دشمنی میں وقفہ پیدا کرکے مزید مذاکرات اور نئے علاقائی انتظامات کی تشکیل کے لیے راہ ہموار کی جا سکتی ہے۔
ان کے مطابق اس وقت مقصد یہ ہے کہ فریقین پہلے کشیدگی کی شدت کم کریں، پھر خطے کے ممالک کو موقع دیا جائے کہ وہ اپنی رفتار اور حالات کے مطابق زیادہ پائیدار حل تلاش کرنے کی کوشش کریں۔
باراک نے یہ بھی کہا کہ فوجی طاقت کا استعمال ایک ایسا معاملہ ہے جسے امریکی صدر اور حکومت کے دیگر عہدیدار انتہائی سنجیدگی سے لیتے ہیں، لیکن اس وقت تمام ممکنہ متبادل راستے اختیار کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے تاکہ ایسی کسی کارروائی سے بچا جا سکے۔
