
کیپشن: Representational image
اسلام آباد (ویب ڈیسک) قومی ایگزیکٹو کمیٹی نے بحری قزاقی کو منی لانڈرنگ کے بنیادی جرم کے طور پر شامل کرنے کی منظوری دیدی جس کے تحت 7سال تک قید، ڈھائی کروڑ روپے تک جرمانے اور جائیداد ضبط کیے جانے کی سزا ہو سکتی ہے۔
کمیٹی نے پاکستان ورچوئل اثاثہ جات ریگولیٹری اتھارٹی کو منی لانڈرنگ کے خلاف قانونی اختیارات دینے کی بھی منظوری دے دی جبکہ انسدادِ بدعنوانی کے صوبائی اداروں کو انسدادِ منی لانڈرنگ ایکٹ کے اختیارات دینے کا معاملہ بھی اصولی طور پر منظور کر لیا گیا تاہم اس پر حتمی عمل درآمد نیشنل اینٹی منی لانڈرنگ اینڈ کومبیٹنگ آف فنانسنگ آف ٹیررازم اتھارٹی کی جانب سے ایس او پیزکو حتمی شکل دینے سے مشروط ہوگا تاکہ اختیارات کے غلط استعمال کو روکا جا سکے۔
